اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 38

وہ لازماً اس دنیا میں ایسے ہی اعمال بجالائے گا جو اُس کے نزدیک اگلے جہان کی زندگی میں اُس کے کام آنے والے ہوں۔وہ کبھی اِس مادی دنیا کے فوائد پر اخروی زندگی کے فوائد کو قربان نہیں کرسکتا کیونکہ اس دنیا کے فوائد تو پچاس ساٹھ یا سوسال تک حاصل ہو سکتے ہیں مگر اگلے جہان کی زندگی بعض اقوام کے نزدیک کروڑوں اور اربوں سال تک اور بعض کے نزدیک دائی ہے۔یعنی وہ زندگی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔پس اگر یہ دونوں زندگیاں آپس میں تسلسل رکھتی ہیں، اگر یہ دنیا ہماری ایک منزل ہے آخری مقام نہیں ہے تو لازماً ہر شخص جو حیات بعد الموت کا قائل ہے وہ اُخروی زندگی کے لمبے سفر کے فوائد کو ترجیح دے گا اور اس دنیا کے چھوٹے سفر کے فوائد کو اگر وہ اُس کی اُخروی ترقی کے راستہ میں حائل ہوں قربان کر دے گا۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ مذاہب جو اگلی زندگی پر یقین رکھتے ہیں اُن کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ دنیا میں جو طوعی نیک کام کئے جاتے ہیں انہی پر اگلی زندگی کے اچھے یا بُرے ہونے کا دارو مدار ہے۔چنانچہ جتنے لوگ اُخروی حیات کے قائل ہیں وہ سب کے سب اس دنیا کو دار المزرعہ سمجھتے ہیں۔جس طرح ایک وقت کھیتی میں بیج بونے کا ہوتا ہے اور دوسرا وقت اُس بیچ سے پیدا شدہ فصل کو کاٹنے کا ہوتا ہے اور عقلمند زمینداروہی چیز ہوتا ہے جس کو وقت پر کاٹنے کی وہ خواہش رکھتا ہے اسی طرح جو شخص اس زندگی کو اگلے جہان کی زندگی کا ایک تسلسل سمجھتا ہے جو اس دنیا کو عالم مزرعہ قرار دیتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس جہان کے اعمال اگلی زندگی میں میرے کام آئیں گے وہ لازماً اس جہان کی کھیتی میں وہی جنس بوئے گا جس کے متعلق وہ جانتا ہوگا کہ اگلے جہاں میں وہ جنس میرے کام آئے گی۔آب خواہ آپ لوگ ایسا عقیدہ رکھنے والوں کو پاگل کہیں ، دیوانہ کہیں ، جاہل کہیں بہر حال جو شخص مانتا ہے کہ مرنے کے بعد پھر ایک نئی زندگی بنی نوع انسان کو حاصل ہوگی وہ 38