اسلام کا اقتصادی نظام — Page 37
اسلام کا اقتصادی عام اقتصادی نظام اقتصادی نظام کے متعلق دو قسم کے نظریے اب میں عام اقتصادی نظام کو لیتا ہوں لیکن اس مضمون کو بیان کرنے سے پہلے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ مذاہب جو حیات مابعد الموت کے قائل ہیں اقتصادی نظام کے بارہ میں انفرادی آزادی کے قیام کے پابند ہیں۔در حقیقت دنیا میں دو قسم کی قو میں پائی جاتی ہیں۔ایک وہ ہیں جو مذہبی ہیں اور دوسری وہ ہیں جو لا مذہب ہیں۔جو اقوام لا مذہب ہیں وہ تو ہر قسم کے نظام کو جو اُن کی عقل میں آجائے تسلیم کر سکتی ہیں لیکن وہ اقوام جو مذہب کو قبول کرتی ہیں وہ اصرار کریں گی کہ دنیا میں ایسا ہی نظام ہونا چاہئے جو مرنے کے بعد کی زندگی پر اثر انداز نہ ہوتا ہو۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت وہ مذاہب جو حیات بعد الموت کے قائل ہیں لازماً اقتصادی نظام کے بارہ میں انفرادی آزادی کے قیام کے پابند ہوں گے کیونکہ جو لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان کو زندہ کیا جائے گا وہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو لوگ نیک اعمال بجالائیں گے انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا ، اللہ تعالیٰ کا قرب ان کو حاصل ہوگا ، خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اُن کے شامل حال ہوگی، اُس کی قدوسیت اور سبوحیت اُنہیں ڈھانپے ہوئے ہوگی ، وہ مقربانِ الہی میں شامل ہوں گے، ہر قسم کے اعلیٰ روحانی علوم اُن کو حاصل ہوں گے اور دنیا کی سب کمزوریاں دُور ہو کر علم وعرفان کا کمال اُن کو حاصل ہوگا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی شخص کہہ دے یہ عقیدہ بالکل غلط ہے، جھوٹ ہے، وہم ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں لیکن بہر حال جو شخص یقین رکھتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی ہمیں ملنے والی ہے 37