اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 30

اسلام کا اقتصادی نظا مغربی افریقہ سے بطور غلام وہاں پہنچائے گئے تھے۔متمدن اقوام کی غرض اس سے یہ ہوتی تھی کہ وہ اپنے ملک کی دولت کو بڑھائیں۔چنانچہ ان غلاموں سے کئی قسم کے کام لئے جاتے تھے۔کہیں اُن کو کارخانوں میں لگا دیا جاتا تھا، کہیں جہازوں کا کام اُن کے سپر د کر دیا جاتا تھا اس طرح محنت و مشقت کے سب کام جو قومی ترقی کے لئے ضروری ہوتے تھے وہ اُن غلاموں سے لئے جاتے تھے۔مثلا سستی چیزیں پیدا کرنا اور زیادہ نفع کما نا مقصود ہوتا تو ان غلاموں کو زمینوں کی آب پاشی اور فصلوں کی کاشت اور نگرانی پر مقرر کر دیا جاتا۔اسلام میں جنگی قیدیوں کے علاوہ غلام بنانے کی ممانعت غرض اس طریق سے ایک طرف تو بنی نوع انسان کے ایک حصہ کو مساوات سے محروم کیا جاتا تھا۔قرآن کریم نے اِن دونوں طریقوں کو قطعا روک دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔ما كَانَ لِنَبِي أَنْ يَكُونَ لَةَ أَسْرَى حَتَّى يُفْخِنَ فِي الْأَرْضِ طَ تُرِيدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْأَخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ فرماتا ہے ہم نے کسی نبی کیلئے نہ پہلے یہ جائز رکھا ہے اور نہ تمہارے لئے جائز ہے کہ بغیر اس کے کہ کسی حکومت سے با قاعدہ لڑائی ہو اُن کے افراد کو غلام بنالیا جائے۔اگر کسی حکومت سے جنگ ہو اور جنگ بھی سیاسی نہیں بلکہ مذہبی تو عین میدانِ جنگ میں قیدی پکڑے جاسکتے ہیں اور اس کی ہماری طرف سے اجازت ہے لیکن تمہیں یہ حق نہیں کہ بغیر کسی مذہبی جنگ کے دوسری قوم کے افراد کو قیدی بناؤ۔یا میدانِ جنگ میں تو نہ پکڑ ولیکن بعد میں اُن کو گر فتار کر کے قیدی بنالو۔قیدی بنانا صرف اس صورت میں جائز ہے جب کسی قوم سے با قاعدہ جنگ ہو اور عین میدانِ جنگ میں دشمن قوم کے افراد کو بطور جنگی قیدی گرفتار کر لیا جائے۔گویا وہ قوم جس کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں ہوا اُس کے افراد کو پکڑنا جائز نہیں ہے۔اس طرح وہ قوم جس سے جنگ ہو اُس 30