اسلام کا اقتصادی نظام — Page 29
اسلام کا اقتصاد غلامی اسلام کا عدم مساوات کو روکنا یہ امر یا در رکھنا چاہئے کہ غیر طبعی اور غیر مساوی سلوک جو دنیا میں شروع زمانہ سے چلا آتا تھا اور جسے اسلام نے قطعا روک دیا اُس کی بڑی وجہ غلامی تھی۔آجکل کے لوگ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے کہ دنیا کی اقتصادیات کا غلامی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔مگر درحقیقت غلامی اور اقتصادیات کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے غلامی کو بالکل روک دیا۔اسلام سے پہلے بلکہ ظہور اسلام کے بعد بھی دنیا کے ایک بڑے حصے میں غلامی کا طریق رائج رہا ہے۔چنانچہ آپ رومن، یونانی، مصری اور ایرانی تاریخ کو پڑھ کر دیکھ لیں آپ کو ان میں سے ہر ملک کی ترقی کی بنیاد غلامی پر رکھی ہوئی نظر آئے گی۔یہ غلام دو طرح بنائے جاتے تھے۔ایک طریق تو یہ تھا کہ ہمسایہ قو میں جن سے جنگ ہوتی تھی اُن کے افراد کو جہاں اکا دُکا نظر آئے پکڑ کر لے جاتے اور انہیں غلام بنا لیتے۔چنانچہ رومی لوگ ایرانیوں کو پکڑ کر لے جاتے اور ایرانیوں کو موقع ملتا تو وہ رومیوں کو پکڑ کر لے جاتے اور سمجھتے کہ اس طرح ہم نے دوسرے ملک کو سیاسی لحاظ سے نقصان پہنچایا ہے۔دوسرا طریق یہ تھا کہ لوگ غیر مہذب ہمسایہ اقوام کی عورتیں ، ان کے بچے پکڑ کر لے جاتے اور اُنہیں اپنی غلامی میں رکھتے۔اوّل الذکر جب موقع ملے اور ثانی الذکر طریق بطور دستور ان میں جاری تھا۔بلکہ یہ طریق اٹھارویں صدی تک دُنیا میں رائج رہا ہے۔چنانچہ مغربی افریقہ سے لاکھوں غلام یونائٹیڈ سٹیٹس امریکہ میں لے جائے گئے جو اب تک وہاں موجود ہیں اور گواب وہ آزاد ہو چکے ہیں مگر دو تین کروڑ باشندے اب بھی امریکہ میں ایسے موجود ہیں جو 29