اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 28

کے تم ملک کی مصیبتوں کے اپنے آپ کو ذمہ دار بناتے۔یہی نہیں کہ خود تو عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے اور غرباء تکالیف میں دن گزار دیتے۔جیسے آج کل کنٹرول کی وجہ سے امراء تو چیزیں لے جاتے ہیں مگر غرباء رہ جاتے ہیں۔اور پھر یہی نہیں کہ تم قربانی کر کے غرباء کی مدد کرتے بلکہ اس سے بڑھ کر ہم تم سے یہ امید کرتے تھے کہ تم اپنے دوستوں اور ساتھیوں کو بھی اس راہ پر چلانے کی کوشش کرتے اور تمام کے تمام افراد ملک مل کر ملک کی بہتری کی کوشش کرتے اور ایک دوسرے کو سہارا دیتے۔پھر فرماتا ہے کہ اس سے بھی زیادہ ہم یہ چاہتے تھے کہ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ یعنی سب نیکیاں کر کے پھر بھی سمجھتے کہ ہم نے کچھ نہیں کیا اور ایک دوسرے کو نصیحت کرتے رہتے کہ اور زیادہ غریبوں اور کمزوروں پر رحم کرو اور اُن سے محبت کرو اور یہ نصیحت مرتے دم تک جاری رہتی۔یہ اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ کی تعلیم ہے جب قرآن کریم کے نزول کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا، جب تفصیلی احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی نازل نہیں ہوئے تھے اور جب مکہ والے بھی ابھی اسلام سے پورے طور پر واقف نہیں ہوئے تھے۔سر میور کے نزد یک رسول کریم صلی یا یتیم کے یہ وہ ابتدائی خیالات ہیں جن سے متاثر ہو کر آپ نے نَعُوذُ بِاللہ نبوت کا دعویٰ کیا اور ہمارے نزدیک یہ وہ ابتدائی الہامات ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اقرا کا حکم ہوا تھا کہ جاؤ اور لوگوں کو ان کا قائل بناؤ۔بہرحال اسلام کی بنیاد کے وقت کی یہ تعلیم صاف طور پر بتارہی ہے کہ اسلام نے شروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ جہاں اسلام فرد کی آزادی اور اُس کی شخصی ترقی کے لئے جدو جہد کو جائز رکھتا ہے وہاں وہ اس امر کی بھی اجازت نہیں دے سکتا کہ کچھ لوگ تو عیش و آرام کی زندگی بسر کریں اور کچھ لوگ تکلیف اور دُکھ کی زندگی بسر کریں۔28