اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 21

تھے، ابھی لین دین کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوئے تھے ، ابھی میاں بیوی کے حقوق یا راعی اور رعایا کے حقوق یا آقا اور ملازمین کے حقوق کی تفصیلات بیان نہیں ہوئی تھیں لیکن اس ابتدائی زمانہ میں قرآن نے غرباء کو اُبھارنے اور اُن کی مدد کرنے کی طرف لوگوں کو تو جہ دلائی بلکہ اُن کے نہ اُبھارنے اور اُن کی مدد نہ کرنے کے نتیجہ میں قوم کی تباہی کی خبر دی اور بتایا کہ وہ قوم اللہ تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن جاتی ہے جو غرباء کے حقوق۔کو نظر انداز کر دیتی ہے۔اسلام کی ابتدائی تعلیم میں غرباء کو ابھارنے کی تلقین تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی سورۃ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلق والی سورۃ ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ ساری سورۃ ایک ہی دن میں نازل ہوگئی تھی بلکہ مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اسی سورۃ کا ابتدائی ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا اور پھر رفتہ رفتہ ساری سورۃ نازل ہو گئی۔اس سورۃ کے نزول کے بعد قریب ترین عرصہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں اُن میں سے چار سورتیں ایسی ہیں جن کو سرولیم میور جو یو۔پی کے لیفٹینٹ گورنر رہ چکے ہیں اور یورپین مصنفین میں خاص عظمت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔سولیلو کی (SOLILOQUY) یعنی محادثہ پالنفس کی سورتیں قرار دیتے ہیں۔اُن کا خیال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس میں دعوئی سے پہلے جو خیالات پیدا ہوا کرتے تھے ان چارسورتوں میں انہی خیالات کا ذکر آتا ہے۔سرولیم میور کے نزدیک یہ چارسورتیں آخری پارہ کی سورۃ البلد۔سورۃ الشمس۔سورۃ اللیل اور سورۃ الضحیٰ ہیں۔مفسرین کے نزدیک تو یہ سورتیں سورۃ العلق کے بعد نازل ہوئی ہیں اور تاریخی طور پر بھی یہی بات درست ہے لیکن میور کا خیال ہے کہ یہ۔۔۔21