اسلام کا اقتصادی نظام — Page 13
نوع انسان کی فلاح و بہبود کے لئے صرف کر دو۔چنانچہ حضرت عمرؓ کا یہ واقعہ کیسا دردناک ہے کہ وفات کے قریب جبکہ آپ کو ظالم سمجھتے ہوئے ایک شخص نے نادانی اور جہالت سے خنجر سے آپ پر وار کیا اور آپ کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تو آپ بستر پر نہایت کرب سے تڑپتے تھے اور بار بار کہتے تھے اللهُمَّ لَا عَلَى وَلَالِى اللَّهُمَّ لَا عَلَى وَلَالى اے خدا! تو نے مجھ کو اس حکومت پر قائم کیا تھا اور ایک امانت تو نے میرے سپرد کی تھی۔میں نہیں جانتا کہ میں نے اس حکومت کا حق ادا کر دیا ہے یا نہیں۔اب میری موت کا وقت قریب ہے اور میں دنیا کو چھوڑ کر تیرے پاس آنے والا ہوں۔اے میرے رب ! میں تجھ سے اپنے اعمال کے بدلہ میں کسی اچھے اجر کا طالب نہیں، کسی انعام کا خواہشمند نہیں بلکہ اے میرے ربّ! میں صرف اس بات کا طالب ہوں کہ تو مجھ پر رحم کر کے مجھے معاف فرمادے اور اگر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں مجھ سے کوئی قصور ہو گیا ہو تو اُس سے درگز رفرما دے۔عمر وہ جلیل القدر انسان تھا جس کے عدل اور انصاف کی مثال دنیا کے پردہ پر بہت کم پائی جاتی ہے۔مگر اس حکم کے ماتحت کہ وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ جب وہ مرتا ہے تو ایسی بے چینی اور ایسے اضطراب کی حالت میں مرتا ہے کہ اُسے وہ تمام خدمات جو اُس نے ملک کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اُس نے لوگوں کی بہتری کے لئے کیں۔وہ تمام خدمات جو اس نے اسلام کی ترقی کے لئے کیں بالکل حقیر نظر آتی ہیں۔وہ تمام خدمات جو اُس کے مُلک کے تمام مسلمانوں کو اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو اُس کے مُلک کی غیر اقوام کو بھی اچھی نظر آتی تھیں ، وہ تمام خدمات جوصرف اُس کے ملک کے اپنوں اور غیروں کو ہی نہیں بلکہ غیر ممالک کے لوگوں کو بھی اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جوصرف اُس کے زمانہ میں ہی لوگوں کو اچھی نظر آتی تھیں بلکہ آج تیرہ سو سال 13