اسلام کا اقتصادی نظام — Page 11
سلام کا اقتصادی نظام کسی کا ذاتی حق نہیں بلکہ ایک امانت ہے جو ملک کے لوگ خود اپنے میں سے قابل ترین شخص کے سپر د کرتے ہیں اور پھر اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ انصاف سے کام لے اور حقوق کی ادائیگی کا خیال رکھے۔یہ پاکیزہ خیالات اور یہ اعلیٰ درجہ کا نمونہ مسلمانوں میں اسی وجہ سے دکھائی دیتا ہے کہ قرآن کریم نے مسلمانوں کے دماغوں میں شروع سے ہی یہ بات ڈال دی تھی کہ بادشاہت ایک امانت ہے اور یہ امانت صرف حقدار کو بطور انتخاب دینی چاہئے نہ کہ ورثہ کے طور پر لوگ اُس پر قابض ہوں۔یا اہلیت کے سوا اور کسی وجہ سے انہیں اس کام پر مقرر کیا جائے۔نیز یہ کہ جوشخص اس امانت پر مقرر ہو اس کا فرض ہے کہ اس امانت کے سب حقوق کو پوری طرح ادا کرے اور جو شخص اس کے تمام حقوق اور فرائض کے ساتھ اُسے ادا نہیں کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم کی طرح کھڑا ہوگا۔پس مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت یہ آیت رہتی تھی کہ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا یعنی جو لوگ حکومت کے قابل ہوں ، جو انتظامی امور کو سنبھالنے کی اہلیت اپنے اندر رکھتے ہوں اُن کو یہ امانت سپرد کیا کرو۔اور پھر جب یہ امانت بعض لوگوں کے سپرد ہو جاتی تھی تو شریعت کا یہ حکم ہر وقت اُن کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا کہ دیانت داری اور عدل کے ساتھ حکومت کرو۔اگر تم نے عدل کو نظر انداز کر دیا، اگر تم نے دیانت داری کو ملحوظ نہ رکھا، اگر تم نے اس امانت میں کسی خیانت سے کام لیا تو خدا تم سے حساب لے گا اور وہ تمہیں اس جرم کی سزا دیگا۔11