اسلام کا اقتصادی نظام — Page 154
میری چارپائی کے نیچے گھسا۔پھر اُس کے جوش میں کمی آنی شروع ہوگئی۔پھر وہ خاموشی سے لیٹ گیا اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی چیز بن گیا ہے۔جیسے جیلی ہوتی ہے اور بالآخر وہ اثر دہا پانی ہو کر بہہ گیا اور میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھو! دعا کا کیسا اثر ہوا۔بے شک میرے اندر طاقت نہیں تھی کہ میں اُس کا مقابلہ کر سکتا مگر میرے خدا میں تو طاقت تھی کہ وہ اس خطرہ کو دور کر دیتا۔ایک قابل ذکر امر یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور دشمن سے دشمن انسان کی بدخواہی کا خیال بھی ہمارے دل کے کسی گوشہ میں نہیں آتا۔ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں اخلاق کی فتح ہو، روحانیت کی ترقی ہو، خدا اور اُس کے رسول کی حکومت قائم ہو۔اور ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو بھی نظام جاری ہو خواہ وہ اقتصادی ہو یا سیاسی جمد نی ہو یا معاشرتی بہر حال خدا اور اُس کے رسول کا خانہ خالی نہ رہے اور دنیا کو اُن کے احکام کی اتباع سے نہ روکا جائے۔پس ہم روس یا کمیونزم کے دشمن نہیں بلکہ روس سے مجھے دلی ہمدردی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ قوم جو سینکڑوں سال فلموں کا شکار رہی ہے ترقی کرے اور اس کے دن پھریں۔ہاں میں یا اور کوئی حریت پسند یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ ایک غلط فلسفہ کو بعض قوموں کی ترقی اور دوسروں کے تنزل کا موجب بنایا جائے۔پس اسلام اور رسول کریم صلی ایتم کی بیان فرمودہ ہدایات کو اگر دنیا کا کوئی نظام اپنا لے اور اپنا نظام اسلامی رنگ میں ڈھال لے تو اُس کی باتیں ہمارے سر آنکھوں پر۔لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو مذہبی لوگ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اُس نظام کو قبول نہ کریں کیونکہ بے شک روٹی کی تکلیف بھی بڑی تکلیف ہے مگر مذہب ایسی چیز ہے جسے انسان کسی حالت میں بھی 154)