اسلام کا اقتصادی نظام — Page 153
جس وقت اثر دہا میرے پاس پہنچائیں کو دکر اُس چار پائی کی پیٹیوں پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوگیا اور میں نے اپنا ایک پاؤں اُس کی ایک پٹی پر اور دوسرا پاؤں اُس کی دوسری پٹی پر رکھ لیا۔جب اثر د ہا چار پائی کے قریب پہنچا تو کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ اس کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں کہ لايَدَانِ لا حَدٍ بقِتَالِهِمْ ۳۶ے اُس وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سانپ کا حملہ دراصل یا جوج اور ماجوج کا حملہ ہے کیونکہ یہ حدیث اُن کے بارہ میں ہے۔میں اُس وقت یہ بھی خیال کرتا ہوں کہ یہ دجال بھی ہے۔اتنے میں وہ اثر دہا میری چار پائی کے قریب پہنچ گیا اور میں نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا دیئے اور اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگنی شروع کر دی۔اسی دوران میں اُن احمدیوں سے جنہوں نے مجھے مقابلہ کرنے سے منع کیا تھا اور کہا تھا کہ جب رسول کریم صا یہ ستم فرما چکے ہیں کہ یا جوج اور ماجوج کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکے گی میں کہتا ہوں کہ رسول کریم سایا ہی ہم نے جو کچھ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ لا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتالِھم کسی کے پاس کوئی ایسا ہاتھ نہیں ہوگا جس سے وہ اُن کا مقابلہ کر سکے مگر میں نے تو اپنے ہاتھ مقابلہ کے لئے اُس کی طرف نہیں بڑھائے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ خدا کی طرف اُٹھا دیئے ہیں اور خدا کی طرف ہاتھ اٹھا کر فتح پانے کے امکان کو رسول کریم سلانا ہی ہم نے رد نہیں فرمایا۔غرض میں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے خدا! مجھ میں تو طاقت نہیں کہ میں اس فتنہ کا مقابلہ کر سکوں لیکن تجھ میں سب طاقت اور قدرت ہے میں تجھ سے التجاء کرتا ہوں کہ تو اس فتنہ کو دور فرما دے۔جب میں نے یہ دُعا کی تو میں نے دیکھا کہ آسمان سے اُس اثر دہا کی حالت میں تغیر پیدا ہونے لگا جیسے پہاڑی کیڑے پر نمک گرانے سے ہوتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اُس اثر دہا کے جوش میں کمی آنی شروع ہوگئی اور آہستہ آہستہ اس کی تیزی بالکل کم ہوگئی۔چنانچہ پہلے تو وہ 153)