اسلام کا اقتصادی نظام — Page 139
نمایاں ہے جیسا کہ زار روس کے زمانہ میں تھا۔(۴) یہ کہ جہاں دوسرے ملکوں میں بلیک مارکیٹ چور تاجر چلاتے ہیں روس میں خود حکومت کی طرف سے علی الاعلان یہ مارکیٹ جاری ہے۔(۵) اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑے عہدہ والے لوگ قریباً ہر چیز حاصل کر سکتے ہیں جب کہ عام کاریگر اپنی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔آسٹریلین وزیر نے اس خبر کے شائع ہونے پر اظہار افسوس کیا ہے اور لکھا ہے کہ ہماری حکومت اور روس کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر اس خبر کا انکار نہیں کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ انکار سیاسی ہے حقیقی نہیں۔یہ خبر وضاحت سے اس انداز ہ کی تصدیق کرتی ہے جو میں نے اپنے لیکچر میں سوویٹ کے مستقبل کے متعلق لگایا تھا کہ آئندہ ایک نیا طبقہ امراء کا پیدا ہونا ضروری ہے کیونکہ لیاقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔یہ ظاہر ہے کہ چونکہ اسلامی حد بندیاں اس ممتاز طبقہ کو حدود کے اندر رکھنے کے لئے کمیونزم میں موجود نہیں یہ طبقہ آخر کمیونسٹ حکومتوں کو پھر پرانے اصول کی طرف لے جائے گا اور کمیونسٹ کی بغاوت کا صرف ایک ہی نتیجہ نکلے گا کہ روس کو اقوامِ عالم میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہو جائے گی اور امپیریلسٹک حکومتوں کی نفع اندوزی میں وہ بھی شریک ہو جائے گا اور ورلڈ پر الیٹریٹ یعنی دنیا کی حکومت عوام کا اصل ایک خواب کی شکل میں تبدیل ہو جائے گا ایسا خواب جو کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا کیونکہ کمیونزم فلسفہ انسانی ہمدردی کے اصول پر نہیں بلکہ زار کی حکومت سے انتقام کے اصول پر مبنی ہے۔روسی سپاہیوں کا حمد نی معیار اس موقع پر ضمنا میں روسی سپاہیوں کے تمدنی معیار کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔(139)