اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 9

اسلام کا اقتصادی نظا حکومت کے متعلق اسلام کی چار اصولی ہدایات یہ وہ ماحول ہے جس میں اسلام اقتصادی نظام پیش کرتا ہے اور بغیر کسی مناسب ماحول کے کوئی اچھے سے اچھا نظام بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اسلام دنیا میں پہلا مذہب ہے جس نے (۱) انتخابی حکومت کا اصول مقر ر کیا ہے اور حکومت کی بنیاد اہلیت پر قائم کی۔(۲) جس نے حکومت کو ملکیت نہیں بلکہ امانت قرار دیا ہے۔(۳) جس نے لوگوں کی عزت ، جان اور مال کی حفاظت کو حکومت کا مقصد قرار دیا ہے۔(۴) جس نے حاکم کو افراد اور اقوام کے درمیان عدل کرنے کی تاکید فرمائی اور اُسے خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ قرار دیا ہے۔غرض اسلام کے نزدیک کوئی نسلی بادشاہ نہیں وہ صاف اور کھلے طور پر فرماتا ہے کہ ان اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا لا یعنی خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم حکومت کی امانت ہمیشہ اہل لوگوں کے سپر د کیا کرو۔پس اسلام کسی نسلی بادشاہت کا قائل نہیں بلکہ اسلام کے نزدیک حکومت انتخابی اصل پر قائم ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ غور وفکر کے بعد اپنی قوم میں سے بہترین شخص کے سپر دحکومت کی امانت کیا کریں۔جب تک مسلمان قرآن کریم کے احکام پر عمل کرتے رہے وہ اسی رنگ میں حکام کا انتخاب کرتے رہے اور آئندہ بھی جب مسلمانوں کو قرآن کریم کے ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق حاصل ہوگی اُن کے لئے پہلا حکم یہی ہوگا کہ تم خود کسی شخص کو حکومت کے لئے منتخب کرو۔اور پھر دوسرا حکم یہ ہوگا کہ تم کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ اعلیٰ خاندان میں سے ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ جابر ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ وہ مالدار ہے، کسی کو اس لئے نہ چنو کہ اُس کے 9