اسلام کا اقتصادی نظام — Page 125
حالات کی درستی کے لئے بھی اب سکیمیں تیار کی جارہی ہیں اور آئندہ ان کی ترقی کے متعلق بھی ایک خاص پروگرام بنایا جائے گا۔یہ اعلان ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے جو اس غلط فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ جیسا سلوک روس اپنے ملک کے باشندوں سے کرتا ہے ویسا ہی سلوک وہ ایشیائی مقبوضات کے باشندوں سے بھی کرتا ہے۔اگر ایسا ہوتا تو یورپی روس اور ایشیائی روس میں ایک ساتھ اور ایک ہی قسم کی اقتصادی اصلاحات عمل میں لائی جاتیں اور دونوں ملک ایک ہی وقت میں ایک سے معیار ترقی پر پہنچ جاتے مگر ایسا نہیں ہوا۔پس یہ خیال واقعات کے بالکل خلاف ہے۔ان علاقوں میں ابھی غرباء موجود ہیں، ان علاقوں میں ابھی مفلوک الحال لوگ موجود ہیں مگر روی ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کرتے جو اپنے ملک کے غرباء سے یا یورپین طبقہ سے کرتے ہیں اور ان دونوں کی حالت میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ کمیونزم کی بنیاد ہی مساوات پر ہے وہ ایسا نہیں کرے گی کہ اپنے ملک کی طاقت بڑھانے کے لئے دوسروں کے حقوق پر چھاپہ مارنے لگے۔مگر یہ بھی محض وہم ہے اور عصمت بی بی از بے چارگی والی بات ہے۔جب تک کمیونزم صنعتی پیداوار کی کمی کی وجہ سے بیرونی ملکوں یا اُن کی دولت کی ضرورت نہیں سمجھتی اُس وقت تک اُس کا یہ حال ہے لیکن جب یہ مجبوری دور ہوئی تو وہ دوسروں سے زیادہ غیر ممالک کولوٹنے اور اُن کی اقتصادی حالت کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کرے گی۔چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب تک سیلستا روس کا اپنے ملک میں اُلجھاؤ تھا جار جیا بھی آزاد تھا، فن لینڈ بھی آزاد تھا، لٹویا بھی آزاد تھا، لیتھونی بھی آزاد تھا، استھو نیا بھی آزاد تھا اور روس یہ کہا کرتا تھا کہ ہمارے نظام کی یہ خوبی ہے کہ وہ دوسرے ملکوں سے الجھاؤ نہیں کرتا۔ہم تو حریت ضمیر کے قائل ہیں ہم نے ان تمام ممالک کو آزاد کر دیا ہے جو ہم سے آزاد ہونا چاہتے تھے ہم نے لٹویا، لیتھونیا، استھو نیا فن لینڈ، پولینڈ، جارجیا وغیرہ ممالک 125)