اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 118

روسی صنعت میں تنزیل کا خطرہ (۱۰) دسواں نقص کمیونسٹ نظام میں یہ ہے کہ چونکہ اس وقت کھانا اور کپڑا وغیرہ حکومت کے سپر د ہے اور صنعت و حرفت بھی اُس کے سپرد ہے اور امپورٹ (IMPORT) اور ایکسپورٹ (EXPORT) بھی اس کے قبضہ میں ہیں اور جس ملک میں وہ قائم ہوئی ہے وہ صنعت میں بہت پیچھے تھا اس لئے فورا حقیقی نتائج معلوم نہیں ہو سکتے مگر عقلاً یہ امر ظاہر ہے کہ جب تک صرف اس قدر صنعت وہاں ہے کہ ملک کی ضرورت کو پورا کرے نقصان کا پتہ نہیں لگ سکتا۔جس قیمت پر بھی چیز بنے بنتی جائے گی اور ملک میں کھپتی جائے گی اُس کے مہنگا ہونے کا علم نہیں ہوگا۔جب تک وہاں کارخانے صرف روسیوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اُس وقت تک یہ پتہ نہیں لگ سکتا کہ کارخانے نفع پر چل رہے ہیں یا نقصان کی طرف جارہے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ جس قیمت پر بھی کوئی چیز تیار ہوتی ہے وہ ملک میں کھپ جاتی ہے مگر ایک وقت آئے گا کہ صنعت ملک کی ضرورت سے زیادہ بڑھنے لگے گی اگر اُس وقت صنعت کو روکا گیا تو اس میں تنزل شروع ہو جائے گا۔اور اگر بڑھنے دیا گیا تو اس صورت میں یہ امر لازمی ہوگا کہ روسی صنعت کی اشیاء دوسرے ملکوں کو بھجوائی جائیں تب یہ بھی ضروری ہوگا کہ روسی صنعت کی اشیاء کی وہی قیمت مقرر کی جائے جس پر وہ باہر کی منڈیوں میں فروخت ہوسکیں۔اگر اس مجبوری کے ماتحت روسی پیداوار کو اس کی لاگت سے کم قیمت پر فروخت کیا گیا تو گویا روسی صناع غیر ملکوں کا غلام بن جائے گا کہ رات دن محنت کر کے لاگت سے کم قیمت پر انہیں اشیاء مہیا کرے گا لیکن اگر ایسانہ کیا گیا تو لازما ملک کی صنعت ایک حد تک ترقی کر کے رُک جائیگی۔یا پھر روس کو امپیریلزم کا طریق اختیار کرنا ہوگا یعنی دوسرے ملکوں کو قبضہ میں لا کر اُن پر مصنوعات ٹھونسنی پڑیں گی اور اس (118)