اسلام کا اقتصادی نظام — Page 117
فطرتِ انسانی میں یہ بات داخل ہے کہ وہ اپنی خدمات کا صلہ چاہتی ہے۔جب کمیونسٹ گورنمنٹ دماغی قابلیتوں کی قدر نہیں کرے گی تو فطرت کا مقابلہ زیادہ دیر تک نہیں ہو سکے گا۔یا تو کمیونسٹ نظام خود اپنے اندر تبدیلی کرنے پر مجبور ہوگا اور دوسرے نظاموں کی صف میں آکر کھڑا ہو جائے گا اور اپنے فلسفہ کو ترک کرنے پر مجبور ہوگا یا پھر اعلیٰ دماغ رکھنے والے لوگ باہر نکلیں گے اور غیر ممالک میں اپنی ایجادات کو رجسٹرڈ کرا کے اُن سے فائدہ اُٹھائیں گے مگر روس اُن کی دماغی قابلیتوں کے فوائد سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جائے گا۔اس وقت روسی گورنمنٹ سختی سے لوگوں کو باہر جانے سے روکے ہوئے ہے۔مگر جب آپس میں میل جول شروع ہوا اور اس جنگ کے نتیجہ میں ایک حد تک ایسا ضرور ہوگا تو روسی موجد باہر نکلیں گے اور غیر ممالک میں دوسرے موجدوں کی حالت کو دیکھ کر خود بھی کمپنیاں قائم کر کے اپنی ایجادات سے نفع اُٹھانا شروع کر دیں گے۔جیسے جرمنی نے جب یہودیوں پر مظالم شروع کئے تو یہودی جرمن میں سے نکل کر امریکہ میں چلے گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہی چیز میں اور وہی دوائیں جو پہلے جرمنی میں تیار ہوا کرتی تھیں اب امریکہ میں تیار ہونی شروع ہوگئی ہیں۔بڑے بڑے کارخانے امریکہ میں اُن یہودیوں نے کھول رکھے ہیں اور اُن سے خود بھی فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور امریکہ کو بھی فائدہ پہنچا رہے ہیں حالانکہ وہ کارخانے پہلے جرمنی میں تھے جب اُن کے حقوق کو دبایا گیا تو وہ انگلستان اور امریکہ میں چلے گئے۔اسی طرح روس میں جب بھی ڈھیل ہوئی اور لوگوں کو آمد و رفت کی آزادی ملی وہاں کے موجد باہر نکلیں گے اور غیر ممالک میں بس کر اپنی دفاعی قابلیتوں سے فائدہ اُٹھانا شروع کر دیں گے یا پھر بیرونی ملکوں سے میل جول کے بند ہونے کی وجہ سے روسی دماغ میں کمزوری آنی شروع ہو جائے گی اور آخر وہ ایک کھڑے پانی کے تالاب کی طرح سٹر کر رہ جائے گا۔117