اسلام کا اقتصادی نظام — Page 7
کے لوگوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تم حکومت کے لئے ایسے ہی لوگوں کا انتخاب کرو جو اس امانت کے سنبھالنے کے اہل ہوں جو ملک کے بہترین راہنما ہوں اور جو رعایا کے لئے ہر قسم کی ترقی کے سامان جمع کرنے کے قابل ہوں ) وہاں تم لوگوں کو جن کا حکومت کے لئے انتخاب کیا گیا ہے اور جن پر اعتماد کر کے ملک کے لوگوں نے حکومت کی امانت اُن کے سپرد کی ہم یہ حکم دیتے ہیں کہ إِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی جب تم کوئی فیصلہ کرو تو عدل سے کام لو۔یہ نہ ہو کہ کسی فرد کو بڑھا دو اور کسی کو نیچے گرا دو، کسی قوم کو اونچا کر دو اور کسی قوم کو نیچا کر دو، کسی قوم میں تعلیم پھیلا دو اور کسی قوم کو جاہل رکھو، کسی کی اقتصادی ضروریات کو پورا کرو اور کسی کی اقتصادی ضروریات کو نظر انداز کر دو بلکہ جب تم لوگوں کے حقوق کا فیصلہ کرو تو ہمیشہ عدل و انصاف سے فیصلہ کرو۔رعایت یا بے جا طرف داری سے کام نہ لو۔پھر فرماتا ہے إِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ به ہمارا یہ حکم ایسا نہیں جیسے بادشاہ بعض دفعہ بغیر کسی خاص مقصد یا بغیر کسی خاص حکمت کے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہمارا منشاء یوں ہے بس اسی طرح کیا جائے۔ہم ان بادشاہوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے یہ حکم نہیں دے رہے بلکہ ہم تمہارے خالق و مالک خدا ہیں اور ہم تمہیں جو کچھ حکم دے رہے ہیں اسی میں تمہارا فائدہ اور تمہارا سکھ ہے۔اگر تم ایسے حاکم مقرر کرو گے جو اچھے ہوں گے، جو حکومت کے فرائض کو صحیح طور پر ادا کرنے والے ہوں گے، جو اس امانت کی قدر و قیمت کو سمجھتے ہونگے تو اس میں تمہارا اپنا فائدہ ہے اور اے حاکمو! اگر تم لوگوں کی جانوں کی حفاظت کرو گے، اگر تم ان کے اموال کی حفاظت کرو گے، اگر تم اپنے فیصلوں میں ہمیشہ عدل کو لحوظ رکھو گے، اگر تم افراد اور اقوام میں تفریق سے کام نہیں لو گے، اگر تم چھوٹوں اور بڑوں سب سے یکساں سلوک کرو گے، اگر تم ملک کی مجموعی حالت کو درست رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرو گے، اگر تم ان 7