اسلام کا اقتصادی نظام — Page 110
اسلام کا اقتصادی ڈکٹیٹر شپ ہی چلی جارہی ہے۔لین پہلا ڈکٹیٹر تھا اب دوسرا ڈکٹیٹر سٹالن بنا ہوا ہے۔سٹالن کے بعد شاید موسیومولوٹوف ڈکٹیٹر بن جائیں گے اور جب مولوٹوف مرے تو کسی اور ٹوف یا خوف کی باری آجائے گی۔بہر حال اس قسم کے نظام کو سونٹے کی مدد کے سوا کبھی قابو میں نہیں رکھا جا سکتا اور روس کا تجربہ اس امر پر شاہد ہے۔(۵) پانچواں نقص کمیونزم کے اقتصادی نظام میں یہ ہے کہ اس میں سود کی ممانعت کو بطور فلسفہ کے اختیار نہیں کیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ وہاں انفرادی سودی بنک نہیں ہیں۔اس وقت تک مجھے اس بارہ میں کوئی تحقیقی علم نہیں اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن انفرادی سودی بنکوں کا نہ ہونا اور سود کو اصولی طور پر برا سمجھنا دونوں بالکل متبائن باتیں ہیں۔انفرادی سودی بنک کا نہ ہونا سامان میسر نہ آنے کے سبب سے بھی ہوسکتا ہے۔اور بنگنگ کے اصول سے عام پبلک کی ناواقفیت کے سبب سے بھی ہو سکتا ہے، مصلحت وقتی کے ماتحت بھی ہوسکتا ہے۔جب سامان میسر آجائیں یا پبلک کا ترقی کرنے والا حصہ بنکنگ سسٹم سے آگاہ ہو جائے یا وقتی مصلحت بدل جائے تو انفرادی بنک ملک میں جاری ہو سکتے ہیں لیکن اگر کوئی قوم کسی بات کو اصولی طور پر بُرا سمجھتی ہے تو خواہ حالات بدل جائیں، خواہ اس بات کا بار یک اور عملی علم حاصل ہو جائے ، خواہ سامان کثرت سے مہیا ہوں وہ قوم اس بات کو بھی اختیار نہیں کرے گی کیونکہ اُس کا اِس بات کو ترک کرنا اصولی بناء پر تھانہ وقتی مشکلات یا وقتی مصالح کی بناء پر۔غرض روس میں اگر افراد سے لین دین کرنے والے بنک نہیں ہیں تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ کیپٹلزم کی جڑ کو جوسود ہے روس نے کاٹ دیا ہے۔میں نے کہا ہے کہ مجھے اس بارہ میں ذاتی علم نہیں لیکن ایک بات واضح ہے اور وہ یہ کہ کمیونزم کے لٹریچر میں سود کی