اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 107

کے لئے رکھ لیتے تھے۔وہ دنیا میں پھرتے تھے، مختلف ملکوں اور قوموں میں گھومتے تھے، غیر اقوام سے مل کر اُن کے حالات کا جائزہ لیتے تھے اور پھر اُن معلومات سے خود فائدہ اُٹھاتے تھے اور دوسروں کے فائدہ کے لئے اُن معلومات کو اپنے ملک میں شائع کر دیتے تھے اور ملک کے لوگ اُن کی معلومات سے فائدہ اُٹھا کر ترقی کی شاہراہ کی طرف پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ قدم بڑھانے لگتے تھے۔یہی حقیقی مدرسہ ملکوں کی علمی ترقی کے لئے قانونِ قدرت نے قائم کیا ہے اور اس میں پڑھ کر تو میں ترقی کی طرف قدم اُٹھاتی چلی آئی ہیں۔قرآن کریم نے بھی بار بار مختلف ملکوں کی سیر اور اُن کے حالات دیکھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اس کے بغیر نکتہ نگاہ وسیع نہیں ہوتا اور مختلف ممالک کے علوم کا آپس میں تبادلہ نہیں ہوتا۔مگر اب کمیونسٹ سسٹم کی وجہ سے اُن کا لوگوں سے ملنا، دنیا کے حالات معلوم کرنے کے لئے مختلف ممالک میں پھر نا بالکل ناممکن ہو گیا ہے اور جہاں جہاں کمیونزم پھیلے گی یہی نتیجہ وہاں بھی پیدا ہوگا اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ قوم میں ذہنی تنزیل واقعہ ہو جائے گا۔کمیونسٹ گورنمنٹ کا کوئی نمائندہ تو دوسرے ملکوں میں دیکھا جاسکتا ہے مگر کمیونسٹ خیالات کے کسی عام روسی کی شکل دیکھنا اب لوگوں کے لئے ایسا ہی ہو گیا ہے جیسے ہما کی تلاش ہوتی ہے۔مجھے وسیع ذرائع حاصل ہیں مگر اب تک مجھے بھی کسی آزاد روسی کمیونسٹ کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا ہاں حکومت کے نمائندے مل جاتے ہیں۔یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ لوگوں کے پاس کوئی زائد روپیہ رہنے ہی نہیں دیا جا تا۔روٹی اور کپڑے کی ضروریات کے علاوہ جو کچھ ہوتا ہے حکومت لے جاتی ہے اور لوگ بالکل خالی ہاتھ رہ جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے جب حکومت اپنے نمائندے باہر بھجوادیتی ہے تو اُن کے ذریعہ سے غیر ملکی خیالات اور ایجادات ملک میں آسکتی ہیں لیکن یہ درست نہیں کیونکہ (107)