اسلام کا اقتصادی نظام — Page 99
اس میں مساوات قائم کر سکتی ہے اور کیا کوئی شخص کسی گورنمنٹ سے اپنے رشتہ داروں کی زندگی کا بیمہ لے سکتا ہے؟ پس دل کا چین اور حقیقی راحت بغیر مذہب اور خدا تعالیٰ سے تعلق کے حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ امور اُسی کے اختیار میں ہیں۔تم روٹی بینک برابر کی دے دو، کپڑا بے شک یکساں دے دو لیکن انسان کو حقیقی چین اُس وقت تک حاصل نہیں ہو گا جب تک اُس کا خدا سے تعلق نہ ہو کیونکہ روٹی کپڑے کے علاوہ ہزاروں چیزیں ہیں جن میں کمی بیشی سے دل کا چین جاتا رہتا ہے اور اُن کا دین محض اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کمیونزم کی حق ملکیت میں دخل اندازی (۲) روس، زار کے زمانہ میں صنعتی ملک نہ تھا بلکہ بڑے بڑے زمینداروں کا ملک تھا اس لئے کمیونزم کو براہ راست تعلق زمینوں سے تھا نہ کہ صنعت سے۔کارل مارکس نے اگر سرمایہ داری پر کچھ لکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جرمنی میں پکا اور وہیں کی یو نیورسٹی میں اُس نے تعلیم پائی۔لین وغیرہ نے جب اُس کے فلسفہ کو اپنایا تو اس کی تعلیم سرمایہ داری کو زمینداری طریق پر چسپاں کرنے کی کوشش کی اور یہ اصول مقرر کیا کہ: (1) (r) زمین حکومت کی ہے۔اس لئے ملک کی سب زمینوں کو لے کر اُس آبادی میں جو خود زمیندارہ کام کرے زمین تقسیم کر دینی چاہئے۔(۳) جس قدر زمین میں کوئی ہل چلا سکے اُسی قدر زمین اُس کے پاس رہنے دینی چاہئے اس سے زائد نہیں (۴) چونکہ زمین حکومت کی ہے اس لئے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا ضروری ہے۔کاشتکار چونکہ حکومت کا نمائندہ ہے اُسے کاشت کے بارہ میں حکومت کی 99