اسلام کا اقتصادی نظام — Page 61
تیسرے کے پاس جائیں گے تو وہ بھی پانچ روپیہ ہی قیمت بتاتا ہے غرض جس کے پاس جائیں گے وہ پانچ روپیہی قیمت بتائے گا اور آخر وہ مجبور ہو جائے گا کہ وہی قیمت ادا کر کے چیز خریدے۔چھوٹے تاجروں کو اول تو یہ جرات ہی نہیں ہوتی کہ اُن کا مقابلہ کریں اور اگر اُن میں سے کوئی شخص وہی چیز سستے داموں پر فروخت کرنے لگے مثلاً وہ اُس کی دو روپے قیمت رکھ دے تو وہ بڑے تاجر جنہوں نے آپس میں اتحاد کیا ہوا ہوتا ہے اُس کا سارا مال اُس گری ہوئی قیمت پر خرید لیتے اور اس طرح اُس کا چند دن میں ہی دیوالہ نکال دیتے ہیں۔پس یہ ٹرسٹ سسٹم ایک نہایت ہی خطرناک چیز ہے اور دنیا کی اقتصادی حالت کو بالکل تباہ کر دیتا ہے۔مجھے ایک دفعہ جماعت احمدیہ کی تجارتی سکیموں کے سلسلہ میں تحریک ہوئی کہ میں لاکھ کی تجارت کے متعلق معلومات حاصل کروں۔لاکھ کی تجارت صرف چند لاکھ روپے کی تجارت ہے اور لاکھ صرف ہندوستان کے چند علاقوں میں تیار ہوتی ہے ریاست پٹیالہ میں بھی تیار کی جاتی ہے۔مجھے تحقیق پر معلوم ہوا کہ ایک یورپین فرم اس کی تجارت پر قابض ہے۔میں نے وجہ دریافت کی تو مجھے بتایا گیا کہ اور تاجروں کی حیثیت تو پندرہ سولہ لاکھ کی ہوتی ہے مگر اس یورپین فرم کا سرمایہ تیس چالیس کروڑ روپیہ کا ہے۔پھر اُن کے پاس صرف یہی تجارت نہیں بلکہ گندم کی تجارت بھی اُن کے ہاتھ میں ہے، کپڑے کی تجارت بھی اُن کے ہاتھ میں ہے، جیوں سے کی تجارت بھی اُن کے ہاتھ میں ہے اسی طرح اور کئی قسم کی تجارتیں اُن کے ہاتھ میں ہیں۔اُن کے مقابلہ میں جب کوئی تاجر چند لاکھ روپیہ صرف کر کے لاکھ کی تجارت شروع کرتا ہے تو وہ یورپین فرم لاکھ کی قیمت اتنی کم کر دیتی ہے کہ جس نے نئی نئی تجارت شروع کی ہوتی ہے اُن کے مقابلہ میں ایک دن بھی نہیں ٹھہر سکتا اور نقصان اُٹھا 61