اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 17

نظر آتے ہیں، اگر تمہیں دنیا میں دریا نظر آتے ہیں، اگر تمہیں دنیا میں کا نہیں نظر آتی ہیں، اگر تمہیں دنیا میں ترقی کی اور ہزاروں اشیاء نظر آتی ہیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام کا نظر یہ ان اشیاء کے متعلق یہ ہے کہ یہ سب کی سب بنی نوع انسان میں مشترک ہیں اور سب بحیثیت مجموعی ان کے مالک ہیں۔کانوں سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، دریاؤں سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جاتا ہے، پہاڑوں سے بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جا تا ہے،مثلاً بجلیاں پیدا کی جاتی ہیں، سونا چاندی اور دوسری قیمتی دھاتیں حاصل کی جاتی ہیں یا دوائیں وغیرہ وہاں پائی جاتی ہیں جن سے انسان فائدہ اُٹھاتا ہے علاج معالجہ کے رنگ میں بھی اور تجارت کے رنگ میں بھی یا اسی قسم کی اور ہزاروں چیزیں ہیں جو صنعت و حرفت میں کام آتی ہیں ان سب کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خَلَقَ لَكُم اے بنی نوع انسان! یہ سب کی سب چیزیں تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں۔یہ زید کی خاطر نہیں ، یہ بکر کی خاطر نہیں، یہ نمرود کی خاطر نہیں، یہ ہٹلر کی خاطر نہیں ، یہ سٹالن کی خاطر نہیں، یہ چرچل کی خاطر نہیں، یہ روز ویلٹ کی خاطر نہیں بلکہ ہر فرد بشر جو دنیا میں پیدا ہوا ہے اُس کے لئے خدا نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں پس کوئی ہو، حاکم ہو محکوم ہو، بڑا ہو چھوٹا ہو،سید ہو چہار ہو، کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں صرف میرے لئے پیدا کی گئی ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے۔اے بنی نوع انسان یہ چیزیں تم سب کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور ان میں سے ہر چیز کے تم سب کے سب بحیثیت انسان مالک ہو۔مال کے متعلق اسلام کا فیصلہ پھر اموال کے متعلق یہ قاعدہ بیان فرماتا ہے کہ اتُوهُمْ مِّنْ مَّالِ اللهِ الَّذِي اتا گھر اے لوگو ! جب تمہارے پاس غلام ہوں یعنی جنگی قیدی تمہارے قبضہ میں آئیں 17