اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 12

حضرت عمر کا عدیم المثال خدمات کے با وجو د وفات کے وقت غیر معمولی کرب یہی وہ چیز تھی جس کا اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اس قدر غالب اور نمایاں تھا کہ اُسے دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔حضرت عمر جو اسلام میں خلیفہ ثانی گزرے ہیں اُنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اس قدر قربانیوں سے کام لیا ہے کہ وہ یورپین مصنف جو دن رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں، جو رسول کریم سالی یا اسلام کے متعلق اپنی کتابوں میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ لکھتے ہیں کہ نعوذباللہ ! آپ نے دیانت داری سے کام نہیں لیا وہ بھی ابوبکر اور عمر کے ذکر پر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جس محنت اور قربانی سے ان لوگوں نے کام کیا ہے اس قسم کی محنت اور قربانی کی مثال دنیا کے کسی حکمران میں نظر نہیں آتی۔خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کام کی تو وہ بے حد تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص تھا جس نے رات اور دن انہماک کے ساتھ اسلام کے قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں کی ترقی کے فرض کو سر انجام دیا۔مگر عمر کا اپنا کیا حال تھا۔اُس کے سامنے باوجود ہزاروں کام کرنے کے، باوجود ہزاروں قربانیاں کرنے کے باوجود ہزاروں تکالیف برداشت کرنے کے یہ آیت رہتی تھی کہ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا اور یہ کہ وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی جب تمہیں خدا کی طرف سے کسی کام پر مقرر کیا جاوے اور تمہارے ملک کے لوگ اور تمہارے اپنے بھائی حکومت کے لئے تمہارا انتخاب کریں تو تمہارا فرض ہے کہ تم عدل کے ساتھ کام کرو اور اپنی تمام قوتوں کو بنی 12