اسلام کا اقتصادی نظام — Page 134
اسلام کا اقتصادی نظا ہے۔پس حکومتوں کی مشاورتی مجالس میں ہم میں اور کمز ور حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے کہ ہر ایک نے اپنے حقوق کی حفاظت کرنی ہے۔مگر روس کی کمیونسٹ حکومت نے ایسا نہیں کیا اُس نے یہ مطالبہ کیا کہ تین بڑوں کے مشورہ سے سب اصول اور امور طے ہوں۔اُس نے اپنی آواز کی اور قیمت مقرر کی ہے اور بیلجیئم اور ہالینڈ کی اور۔اور اگر میبینیم اور ہالینڈ کی آوازوں اور روس کی آواز میں فرق ہے، اگر کمزور قوم کو طاقتور قوم کے مقابل پر نہیں لایا جاسکتا، اگر ایک غریب قوم کے ساتھ مساوات کا سلوک نہیں کیا جاسکتا تو فر دکوفرد کے مقابل پر مساوات کیوں دی جائے۔ایک عالم اور جاہل اور ذہین اور کند ذہن میں جو قدرتی فرق ہے اُسے کیوں مٹایا جائے۔اور روس کا خود تھری بگز ( THREE BIGS) میں شامل ہونا اور اس تین بڑوں یا پانچ بڑوں کے اصول پر زورد ینا بتا تا ہے کہ کمیونزم کا مساوات کا اصول بالکل غلط اور دکھاوے کا ہے۔اگر بڑی حکومت چھوٹی حکومت کے مقابل میں امتیازی سلوک کی مستحق ہے تو عالم جاہل کے مقابل پر اور فطرتی صناع اور تاجر ایک کو دن سے صناع اور غیر تجربہ کار تاجر کے مقابل پر اپنے فن سے فائدہ اُٹھانے کا کیوں مستحق نہیں۔ایک بڑی قوم کے مقابل پر ایک چھوٹی قوم کو نیچا کر دینا اس سے زیادہ خطر ناک ہے جتنا کہ ایک شخص کا اپنی قابلیت سے دوسرے سے کچھ آگے نکل جانا خصوصاً جب کہ طبعی مساوات کے قیام کے لئے اسلام کے مقرر کردہ پاکیزہ اصول موجود ہوں۔اس موقع پر مجھے ہندوستان کے ایک بڑے لیڈر کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ایک دفعہ ایک مقام پر بعض مسائل کے متعلق غور کرنے کے لئے بہت سے لیڈر ہندوستان کے مختلف مقامات سے جمع ہو گئے مجھے بھی سر سکندر مرحوم اور سر فیروز خان نون نے تار دیگر بلوایا۔یہ مجلس شملہ میں ہوئی تھی غالباً ۷۰ یا ۸۰ لیڈر تھے جومختلف مقامات سے شامل ہونے کے (134)