اسلام کا اقتصادی نظام — Page 8
بادشاہوں کے نقش قدم پر نہیں چلو گے جو کسی کو بڑھا دیتے ہیں اور کسی کو گرا دیتے ہیں اور کسی کو نا واجب سزا دے دیتے ہیں اور کسی کی ناواجب رعایت کر دیتے ہیں تو تم صرف ہمارا حکم ہی پورا نہیں کرو گے بلکہ انجام کے لحاظ سے یہ امر خود تمہارے لئے بھی بہتر ہوگا۔پھر فرماتا ہے إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا یعنی اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ لوگ دنیا کے ظالم بادشاہوں کی ایڑیوں کے نیچے کچلے گئے اور وہ تباہ و برباد کئے گئے۔بادشاہوں نے اُن پر ظلم کیا اور ان کے حقوق کو انتہائی بیدردی کے ساتھ پامال کر دیا۔یہ حالات خدا نے دیکھے اور اُس کی غیرت نے برداشت نہ کیا کہ بنی نوع انسان ہمیشہ ظلموں کے نیچے دبتے چلے جائیں اور حکام اپنی من مانی کارروائیاں کرتے رہیں پس اُس نے چاہا کہ اس بارہ میں خود ہدایات دے۔چنانچہ جب ظلم اپنی انتہا تک پہنچ گیا اور لوگوں نے ہمارے حضور چلا کر کہا کہ اے خدا! اس قسم کے حاکم ہم پر مسلط ہو رہے ہیں جو ہمارے حقوق کو ادا نہیں کرتے تو خدا نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اپنی شریعت میں یہ حکم نازل فرمادے کہ ہمیشہ حکام انتخاب سے مقرر کئے جائیں۔اور ایسے حاکم بچنے جائیں جو انصاف اور عدل کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہوں اور حکومت کے اہل ہوں۔اسی طرح حکام کو خدا نے اپنی شریعت میں یہ حکم دے دیا کہ دیکھو! ہمیشہ عدل اور انصاف سے کام لو، ملک کی اقتصادی حالت کو ترقی دینے کی کوشش کرو، رعایا کے جان و مال کی حفاظت کرو، اقوام اور افراد میں تفریق پیدا نہ کرو، ایسی تدابیر اختیار نہ کرو جو ملک کی ترقی میں روک ڈالنے والی یا آئندہ نسلوں کو تباہ کرنے والی ہوں بلکہ ہمیشہ ایسے طریق اختیار کرو اور ایسے قوانین بناؤ جو ملک کی ترقی کا موجب ہوں۔8