اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 12 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 12

طلاق اگر میاں بیوی میں نا چاتی ہو جائے اور وہ دونوں آپس میں شریعت کے حکم کے مطابق اپنی بقیہ زندگی نہ گزار سکتے ہوں یا عورت کسی خلاف شریعت فعل کی مرتکب ہو یا ماں باپ طلاق دینے کا حکم دیں تو خاوند کو چاہیئے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے نکاح سے آزاد کر دے۔یعنی طلاق دیدے۔طلاق دینا اگر چہ جائز ہے مگر طلاق دینے کا اس وقت حکم ہے جبکہ سخت مجبوری ہو۔اور بغیر طلاق دینے کے زندگی گزارنا محال ہو۔اگر کوئی شخص یونہی بغیر کسی خاص مجبوری کے طلاق دیتا ہے تو وہ سخت بُرا کام کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔کیونکہ ایک پاک معاہدہ ( نکاح ) کو توڑتا ہے۔طلاق دینے سے قبل غور اور فکر نہایت ضروری ہے۔اس لئے شریعت نے حکم دیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے صلح وصفائی کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اور عورت اور مرد ہر دو کو ہر ممکن طریق سے سمجھانا چاہئے۔اگر وہ بالکل نہ سمجھیں تو پھر مرد کو طلاق دینی چاہیئے۔طلاق دینے کا یہ طریق ہے کہ مرد اپنی بیوی کو ایام طہر میں طلاق دے۔جس طہر میں اس کے پاس نہ گیا ہو۔اور ہر ماہ میں ایک ایک کر کے تین طلاقیں دے۔جب تین مہینے گزر جائیں یعنی عدت پوری ہو جائے تو وہ عورت جہاں چاہے نکاح کر لے۔[12]