اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 51
فرمانبرداری میں رات دن گزار دیتے ہیں اور اس کے لئے ہر قربانی کر گزرتے ہیں۔اگر سارا مال اس کی راہ میں خرچ کرنا پڑے تو سارا مال خرچ کر دیتے ہیں اور اگر اپنی جان بھی اس کی راہ میں قربان کرنی پڑے تو بڑی خوشی سے کر دیتے ہیں تب اللہ تعالیٰ ان کو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ کا خطاب دے دیتا ہے اور ان کی عزت افزائی کرتا ہے اور ساری دنیا ان کے قدموں میں لا ڈالتا ہے۔وہی جو دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل سمجھے جاتے ہیں انہیں عزتیں عطا کرتا ہے اور حکومتیں ان کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اپنی ظاہری بادشاہت سے انہیں حصہ عطا کرتا ہے مگر جولوگ ان پر ایمان نہیں لاتے وہ اللہ تعالیٰ کے عذابوں کے مورد ہو جاتے ہیں چاروں طرف سے ان پر عذاب آنے شروع ہو جاتے ہیں ان کی سلطنتیں زوال پذیر ہو جاتی ہیں ملک اور علاقے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں عزتیں ان سے منتقل ہو کر مومنوں کو ٹل جاتی ہیں اور آخر بصد حسرت اس دنیا سے گذر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ابدی عذاب میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ۔کے مصداق ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے یہ برگزیدہ بندے انبیاء ورسل ہر زمانہ میں ہوتے رہتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔جس طرح کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کہ اس میں ہمارے جسموں کا کوئی بادشاہ نہ ہو اسی طرح کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا جس میں ہماری ا (ترجمہ) یہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب لوگوں کی۔[51]