اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 22 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 22

مقروض ) کو تنگ کیا جائے اور اگر اس نے عمدا ادا نہ کیا ہو تو پھر قضاء ( عدالت) میں دعوی کرنا چاہئے قضاء اس سے حکما رو پید ادا کروائے گی۔اگر مقروض فوت ہو جائے تو اس کے ترکہ میں سے سب سے پہلے قرضہ ادا کیا جائے گا۔لیکن اگر مقروض کا ترکہ اس قدر نہ ہو جس قدر کہ قرضہ ہے تو پھر اس کی اولاد پر وہ قرضہ ادا کرنا فرض ہے۔اور اگر کوئی سبیل بھی ادا ئیگی کی نہ ہو سکے تو پھر اسلامی حکومت کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ اس کی طرف سے قرضہ ادا کرے۔بہر حال قرض خواہ کا روپیہ ضائع نہیں ہوگا لیکن یہ دوسری بات ہے کہ قرض خواہ بطور احسان کسی مفلس مقروض کو معاف کر دے۔قرضہ ادا کرنا نہایت ضروری ہے اگر کوئی شخص اس جہان میں اپنا قرضہ ادا نہیں کرے گا تو قیامت کے دن اس سے اس قرض کا مطالبہ کیا جائے گا۔اگر کوئی مقروض قرض ادا کرتے وقت اپنی طرف سے بطور شکر یہ احسان کہ اس کے کسی بھائی نے اس کے ساتھ نیک سلوک کیا ہے اخذ کردہ روپیہ سے زائد روپیہ دے دے تو یہ بھی بہت اچھی بات ہے مگر جس قدر قرض لیا ہے اسی قدر تو میعاد معینہ کے اندر ادا کرنا نہایت ضروری ہے۔[22]