اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 15
خُلع شریعت نے جس طرح مرد کو یہ اجازت دی ہے کہ اگر اسے کوئی حقیقی مجبوری در پیش ہو تو وہ اپنی عورت کو طلاق دے سکتا ہے۔اسی طرح شریعت نے عورت کو بھی یہ حق دیا ہے کہ اگر اسے کوئی حقیقی مجبوری در پیش ہو۔مثلاً اس کا خاوند کسی خطر ناک بیماری میں مبتلا ہو یا اس کی ضرورت کو پورا نہ کر سکتا ہو تو وہ اپنے خاوند سے علیحدہ ہونے کے لئے طلاق حاصل کرلے۔اس طلاق کو جو عورت اپنی مرضی سے حاصل کرتی ہے طلع کہتے ہیں۔اگر مرد طلاق نہ دے تو عورت کو حکم ہے کہ وہ قضاء ( عدالت ) میں قاضی (حاکم و منصف) کے پاس درخواست کرے کہ اسے خاوند سے علیحدہ کیا جائے۔اگر قاضی معقول وجہ دیکھے گا تو جو مال اس کے خاوند نے اُسے دیا ہو گا اس میں سے جس قدر اس کے پاس موجود ہو گا وہ اس کے خاوند کو دلا دیگا۔اور حکما اسکوطلاق دلا دے گا۔خلع میں مہر اور نان و نفقہ کی عورت حقدار نہیں بلکہ اگر خاوند اس سے کچھ مال لے کر ضلع کرنا چا ہے تو بھی اس کے لئے جائز ہے۔مگر جس قدر مال اس نے خود عورت کو دیا ہے اس سے زیادہ لینا اس کے لئے منع ہے۔مہر۔کثرت ازدواج - طلاق اور ضلع وغیرہ یہ سب خوبیاں ہمارے مذہب [15]