اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 94
وفات کے بعد ا ا ر اپریل ۱۹۸۲ء کو آپ نے محترمہ سیدہ ڈاکٹر طاہرہ صدیقہ صاحبہ بنت محترم خان عبدالمجید خان صاحب سے عقد ثانی فرمایا۔۶ /ستمبر ۱۹۳۴ء کو آپ مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلستان تشریف لے گئے اور آکسفورڈ یو نیورسٹی سے بی۔اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 9 نومبر ۱۹۳۸ء کو واپس قادیان تشریف لائے۔قبل از خلافت ممتاز جماعتی خدمات یورپ سے واپس تشریف لانے کے بعد سے لے کر منصب خلافت پر متمکن ہونے تک آپ نے مختلف وقتوں میں پروفیسر و پرنسپل جامعہ احمدیہ صدر و نائب صدر مجلس خدام الاحمد یه مرکزیہ، پر نیل تعلیم الاسلام کالج، صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ، صدر صدر انجمن احمد یہ اور متعدد دوسری حیثیتوں سے جماعت کی ممتاز اور نمایاں خدمات انجام دیں۔انتخاب خلافت حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی وفات کے بعد ۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو مجلس انتخاب خلافت نے آپ کو خلیفہ اسیح الثالث منتخب کیا جس سے بنی اسرائیل کی مشہور حدیث طالمود کی پیشگوئی کہ جب مسیح فوت ہوگا تو اس کی روحانی بادشاہت پہلے اس کے بیٹے اور پھر اس کے پوتے کو ملے گی حرف بحرف پوری ہوئی۔[94]