اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 64 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 64

اس نے پھر بھی پروانہ کی۔اور کہا کہ تیرے دونوں بھائی بھی مارے گئے ہیں۔اس نے پھر چڑ کر کہا کہ میں تجھ سے بھائیوں کے متعلق نہیں پوچھتی۔اس نے کہا کہ وہ تو خیریت سے ہیں۔اس پر اس عورت نے کہا۔الحمد للہ ! اگر آپ زندہ ہیں تو سب دنیا زندہ ہے۔مجھے پرواہ نہیں کہ میرا باپ مارا گیا ہے یا میرے بھائی مارے گئے ہیں۔یہ اخلاص اور یہ محبت اُس کامل نمونہ کے بغیر جو آپ نے دکھایا ہے۔اور اُس گہری محبت کے بغیر جو آپ کو بنی نوع انسان سے تھی۔کس طرح پیدا ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ایک دفعہ اسلامی لشکر ایک پہاڑی راہ سے گزر رہا تھا جس کے دونوں طرف دشمن کے تیر انداز چھپے ہوئے تھے۔مسلمانوں کو اس جگہ کا علم نہ تھا۔ایک تنگ سڑک درمیان سے گزرتی تھی۔جب اسلامی لشکر عین درمیان میں آگیا تو دشمن نے تیر مارنے شروع کئے۔اس اچانک حملہ کا یہ نتیجہ ہوا کہ گھوڑے اور اونٹ اڑ کر دوڑ پڑے۔اور سوار بے قابو ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چار ہزار دشمن تیر اندازوں کے اندر صرف ۱۶ آدمی سمیت رہ گئے۔باقی سب لشکر پراگندہ ہو گیا۔آپ نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا دی۔اور دشمن کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔جو ساتھی باقی رہ گئے تھے وہ گھبرا گئے۔اور اُتر کر آپ کے گھوڑے کی باگیں پکڑ لیں۔اور کہا۔جناب اس وقت دشمن فاتحانہ بڑھا چلا آرہا ہے۔اسلامی لشکر بھاگ چکا ہے۔آپ کی جان پر اسلام کا مدار ہے پیچھے ہٹیئے تاکہ [64]