اسلام کی کتب (پانچویں کتاب)

by Other Authors

Page 63 of 103

اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 63

لاتیں کٹی ہوئی تھیں۔اور سب جسم زخمی تھا اور اس کی آخری حالت معلوم ہوتی تھی۔اس کو دیکھتے ہی اس زخمی نے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ آپ خیریت سے ہیں۔یہ بات سُن کر اس کا چہرہ خوشی سے ٹمٹما اُٹھا۔اور اس نے کہا کہ اب میں خوشی سے جان دوں گا۔پھر اس عزیز کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ میری ایک امانت ہے جو میرے عزیزوں کو پہنچادینا۔اور وہ یہ ہے کہ اُن سے کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی امانت ہے۔اس کی حفاظت تمہارے ذمہ ہے۔دیکھنا اس کی حفاظت میں کو تاہی نہ کرنا۔اور یہ کہتے ہوئے مسکرا کر جان دے دی۔یہ تو مردوں کی وفاداری کا حال ہے عورتیں بھی اس سے کم نہ تھیں۔مدینہ میں بھی یہ خبر پہنچ گئی تھی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔اور سب عورتیں اور بچے شہر سے نکل کر میدان جنگ کی طرف گھبرا کر چل پڑے تھے۔اتنے میں ان کو اسلامی لشکر ملا۔جو خوشی سے آپ کسمیت واپس لوٹ رہا تھا۔ایک عورت نے ایک سپاہی سے آگے بڑھ کر پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اسے چونکہ معلوم تھا کہ آپ خیریت سے ہیں اس نے اس کی پرواہ نہ کی اور کہا کہ تیرا باپ مارا گیا ہے۔اُس عورت نے کہا کہ میں تجھ سے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھتی۔میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت پوچھتی ہوں۔[63]