اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 43
وراثت ہر شخص جس وقت فوت ہوتا ہے تو وہ اپنے پیچھے اپنا مال اور جائداد و غیرہ چھوڑ جاتا ہے اس مال کو تر کہ کہتے ہیں۔شریعت نے حکم دیا ہے کہ سب سے پہلے عوفی کے ترکہ میں سے اگر اس نے کسی کا قرضہ دینا ہو یا کسی کے حق میں وصیت کی ہو تو ان کو ادا کیا جائے۔ان ہر دو کی ادائیگی کے بعد اگر کوئی مال بچے تو وہ اس کے قریبی رشتہ داروں میں جنہیں شریعت نے وارث قرار دیا ہے شریعت کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق تقسیم کیا جائے۔اگر اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کا مال بیت المال میں جمع کرا دیا جائے۔ذیل میں وہ رشتہ دار درج کئے جاتے ہیں جو ٹوٹی کے وارث ہوتے ہیں۔(۱) بیٹا۔(۲) پوتا۔(۳) باپ۔(۴) دادا۔(۵) بھائی۔(۶) بھیجا۔(۷) چچا۔(۸) چچازاد بھائی۔(۹) خاوند (۱۰) بیٹی۔(۱۱) پوتی۔(۱۲) ماں۔(۱۳) دادی۔(۱۴) بہن۔(۱۵) بیوی۔مندرجہ ذیل رشتہ دار کسی صورت میں بھی متوفی کے ورثہ کے حقدار نہیں :- (۱) غلام (۲) میت مقتول ہو تو اس کا قاتل (۳) مرتد (۴) مسلمان کا لے ان میں سے بعض صرف بعض صورتوں میں ہی وارث ہو سکتے ہیں۔[43]