اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 34
اس کا ہر ایک حکم واجب التعمیل ہے لیکن مذہب کے معاملہ میں اس کی کوئی بات ماننا جائز نہیں۔اگر کوئی بادشاہ مذہب کے بارہ میں لوگوں پر جبر کرتا ہو۔مثلاً مذہبی فرائض کے ادا کرنے سے روکتا ہو۔یا کوئی دوسرا مذہب اختیار کرنے کے لئے مجبور کرتا ہو تو اس کی یہ بات ماننا ہر گز ہرگز جائز نہیں۔بلکہ ایسے ملک یا علاقہ کو چھوڑ جانے (ہجرت کر جانے ) کا حکم ہے۔اور پھر اس کے علاقہ سے ہجرت کرنے کے بعد اگر طاقت ہو تو اس سے جہاد کرنے کا حکم ہے۔مگر اس کے ملک میں رہ کر اس سے لڑائی کرنے یا فتنہ وفساد برپا کرنے کی اسلام نے ہرگز اجازت نہیں دی۔جہاد کی صورت میں ہر عاقل بالغ مسلمان پر جہاد میں شامل ہو نا فرض ہے۔جو شخص میدان جنگ میں شامل ہو پھر اُس پر وہاں سے بھاگنا یا دشمنوں کو پیٹھ دکھانا حرام ہے۔اسے چاہیئے کہ یا تو فتح حاصل کرے یاد ہیں شہید ہو جائے۔اگر شہید ہو جائے تو وہ سید حاخدا کے فضل سے جنت میں جائے گا۔[34]