اسلام کی کتب (پانچویں کتاب) — Page 35
بادشاہ کے فرائض اسلام نے جس طرح رعایا کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ بادشاہ کی اطاعت کرے اور مملک میں فتنہ وفساد برپا نہ کرے۔اسی طرح بادشاہ کے لئے بھی فرائض مقرر کر دئے ہیں جن پر کار بند ہونا اس کے لئے ضروری ہے۔اگر کوئی بادشاہ ان فرائض کو بیجا نہیں لاتا تو وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔اور در حقیقت بادشاہ کہلانے کا مستحق نہیں۔بادشاہ رعایا کے لئے ایک گڈریا ہے۔جس طرح گڈریا اپنے ریوڑ کی حفاظت کرتا ہے۔اور ہر ایک جانور کا خیال رکھتا ہے۔اور ان کے لئے ہر ایک ضروری شے مہیا کرتا ہے۔اسی طرح بادشاہ کا فرض ہے کہ ملک میں امن کو قائم رکھے۔اور ہر ایک کے جان و مال اور عزت کی حفاظت کرے۔اور ان کے لئے کھانے پینے ، رہنے سہنے اور ان کی دیگر تمام ضروریات مثلاً تعلیم و تربیت کا انتظام کرے۔اور ان کے اندر اخلاق حسنہ پیدا کرے۔اور ہر ایک اپنے مذہب کی تبلیغ میں آزاد ہو۔اگر ان میں آپس میں تنازعات ہوں تو عدالتوں کے ذریعے ان کے تصفیے کئے جائیں۔غرضیکہ ہر لحاظ سے اس کی سلطنت کا انتظام اعلیٰ اور عمدہ ہو۔[35]