اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 42
42 ی تعلیم تھی جو آپ دیتے۔مگر باوجود اس کے کہ یہ تعلیم اعلیٰ درجہ کی تھی۔لوگ آپ پر ہنستے۔مکہ کے لوگ سخت بت پرست تھے۔اور سینکڑوں بت بنا کر اپنے معبد میں رکھے ہوئے تھے جن کے سامنے وہ روزانہ عبادت کرتے تھے۔اور جن کے آگے باہر سے آنے والے لوگ نڈرانے چڑھاتے تھے۔جن پر کئی معزز خاندانوں کا گزارہ تھا۔اُن لوگوں کے لئے ایک خدا کی عبادت بالکل عجیب تعلیم تھی۔وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ کیوں انسان کی شکل میں کسی پتھر کے بت میں ظاہر نہیں ہوسکتا۔وہ ایک نہ نظر آنے والے خدا کا تخیل ناممکنات سے سمجھتے تھے۔پس جب وہ آپ کو دیکھتے۔ملتے اور کہتے کہ دیکھو۔" اس شخص نے سب خداؤں کو اکٹھا کر دیا ہے۔کیونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ کئی خداؤں کے ہونے میں تو کوئی شبہ ہی نہیں۔پس محمد صلی یا تم جو کہتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے۔اس سے مراد اُن کی یہ ہے کہ اُنہوں نے اب سب خداؤں کو اکٹھا کر کے ایک ہی بنا دیا ہے۔اور اپنی اس خلاط منہمی کی بے ہودگی کو آپ کی طرف منسوب کر کے خوب قہقہے لگاتے۔بعث بعد الموت کا عقیدہ بھی اُن کے لئے عجیب تھا۔اور ہنستے اور کہتے کہ یہ شخص خیال کرتا ہے کہ جب ہم مر جائیں گے تو زند ہ ہوں گے۔جب مسلمانوں کی تکلیفیں بہت بڑھ گئیں تو رسول اللہ سلاما یاتم نے صحابہ کو