اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 27
27 ہو جائے تو اس کو حج کا ثواب مل گیا۔۴۔مکہ معظمہ میں داخل ہوتے ہی جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو یہ دعا کے قبول ہونے کا موقعہ ہے اس وقت جو چاہے دعا کرے۔۵۔طواف باوضو کرنا چاہیئے۔پہلے تین چکر دوڑ کر اور باقی چارمیانہ چال سے۔اور اگر کوئی شخص بیمار ہو تو وہ سواری پر بھی طواف کر سکتا ہے۔-(4 طواف سے فارغ ہو کر مُلتزم ( حجر اسود سے دروازہ تک اور دروازہ سے سے حطیم تک جو دیوار ہے اسے ملتزم کہتے ہیں۔) کے ساتھ لپٹ کر دعا اور ذکر الہی کرنا چاہیئے۔کیونکہ یہ نہایت ہی متبرک دیوار ہے۔ے۔اگر کوئی محرم عرفات سے واپس آنے سے قبل (4/ ذی الحجہ سے پہلے ) اپنی بیوی سے جماع کرلے تو اسے اپنا حج پورا کر لینا چاہیئے۔مگر یہ اس کا وہ حج نہیں سمجھا جائے گا جو اس پر فرض تھا۔بلکہ اس پر اگلے سال پھر حج فرض ہے۔اگر طواف افاضہ (۱۰ / ذی الحجہ ) سے پہلے جماع کرلے تو حج ہو جائے گا۔بشرطیکہ ایک اونٹ کی قربانی کرے۔جو محرم اپنا سر منڈ والے۔تو یا وہ تین دن کے روزے رکھے یا چھ مسہ کھانا کھلائے یا ایک بکرے کی قربانی کرے۔مسکینوں کو اور اگر کوئی سلا ہوا کپڑا پہن لے یا خوشبو وغیرہ لگالے تو جو د و عادل مسلمان اس کو حکم دیں۔مثلاً قربانی دینے کا یا روزے رکھنے کا حکم دیں تو اس پر عمل کرنا