اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 16
16 پائی جاتی ہوں۔اگر کسی شخص میں یہ شرطیں نہ پائی جائیں اور وہ حج کے لئے جائے تو اس کا حج ، حج نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ اس نے اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی کی اور اگر کسی شخص میں یہ شرطیں پائی جاتی ہوں اور وہ حج نہ کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کا سخت نا فرمان ہے۔اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔حج کا وقت اور میقات ۲ حج کے لئے شوال، ذی قعدہ ، ذی الحج تین مہینے مقرر ہیں۔جو شخص حج کرنا چاہے اس کو چاہیئے کہ وہ ان میں حج کی نیت کر لے۔حج کے لئے چار میقات مقرر ہیں۔میقات اُن جگہوں کو کہتے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے والوں کے لئے مقرر فرمائی ہیں۔کہ جب حج کو جانے والا وہاں سے گزرے تو احرام باندھ کر مکہ معظمہ کی طرف جائے۔بغیر احرام باندھے اس جگہ سے آگے جانا نا جائز ہے۔ہر طرف کے لوگوں کے لئے میقات علیحدہ علیحدہ ہیں۔جو لوگ مدینہ منورہ کی طرف سے حج کے لئے آئیں۔ان کے لئے ذوالحلیفہ میقات ہے۔جو شام کی طرف سے آئیں۔ان کے لئے جحفہ۔جو نجد کی طرف سے آئیں اُن کے لئے لے ایک گاؤں کا نام ہے۔