اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 23
23 فجر کی نماز کا وقت ہو تو اول وقت فجر کی نماز پڑھ کر مشعر حرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر اور دعا کرے۔اور سورج نکلنے سے پہلے یہاں سے منی کی طرف روانہ ہو جائے۔مٹی پہنچنے پر رھی الجمار ملا کرے۔اور ہر کنکر پھینکتے وقت اللہ اکبر کہے۔رمی الجمار شروع کرنے کے وقت سے حاجی کا تلبیہ جو اس کا خاص کام تھا، ختم ہو گیا۔رحی الجمار سے فارغ ہو کر مسجد خیف میں آکر خطبہ سنے پھر قربانی کرے۔حجامت کے بنوائے۔اور اپنا احرام کھول دے۔غسل کر کے اپنے کپڑے بدل لے اور بیت اللہ میں جا کر اس کا طواف کرے۔(اگر اس سے پہلے کسی حاجی کو طواف کرنے کا موقعہ نہ ملا ہو تو صفا اور مروہ کا بھی طواف کرے۔) اس طواف کو طواف الإفاضَہ اور طَوَافُ الرِّيَا مرة کہتے ہیں۔یہ طواف حاجی پر فرض ہے۔طواف کرنے کے بعد چاہ زمزم پر چلا جائے۔اور وہاں سے آب زمزم ہیئے۔کیونکہ چاہ زمزم پر کھڑے ہو کر پانی پینا سنت ہے۔اس کے بعد مٹی میں واپس آجائے۔(حاجی پر حالت حج میں عید کی نماز واجب نہیں۔) گیارھویں، بارھویں اور تیرہویں تاریخ کو مٹی میں ہی رہے۔رمی الجمار ٹیلوں پر کنکر مارنے کو کہتے ہیں۔وہاں تین ٹیلے ہیں۔جن پر کنکر پھینکنے کا حکم ہے۔ایک کا نام جمرۃ العقبہ ہے۔یہ سب سے بڑا ٹیلہ ہے۔اس سے چھوٹے ٹیلے کا نام جمرة الوسطی ہے۔پھر اس سے چھوٹے ٹیلے کا نام جمرۃ الدنیا ہے۔منہ ت حجامت میں سر کے بال منڈوانا، بال کتروانے سے افضل ہے۔منہ