اسلام کی کتب (چوتھی کتاب) — Page 21
21 لیاس کو پہن لینے کے بعد حاجی محرم ہو گیا۔اب اسے اپنے اوقات تلبیہ ہتکبیر بکلمہ اور سبیح وتحمید میں گزارنے چاہئیں۔جب حرم میں داخل ہو تو ان باتوں پر عمل کرے جن پر عمل کر نامحرم کا فرض ہے۔جب مکہ معظمہ میں داخل ہونے لگے تو اسے چاہئے کہ فسل کرلے۔اور جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو جو چاہے دعا کرے۔کیونکہ یہ دعا کے قبول ہونے کا موقعہ ہے۔جب بیت اللہ کے پاس پیتے تو حجر الشوڈ کو جو جنوب مشرقی کونے میں رکھا ہے بوسہ دے۔اور یہاں سے خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) کے اردگرد چکر لگانا یعنی طواف کرنا شروع کرے۔اور سات چکر لگائے۔اگر ہو سکے تو ہر طواف میں حجراسود کو بوسہ دے۔اگر بوسہ نہ دے سکتا ہو تو ہاتھ لگالے۔اگر ہاتھ بھی نہ لگا سکے تو اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ ہی کرلے اور جنوب مغربی کونہ کو بھی ہاتھ لگا تار ہے۔اور حطیما کو بھی طواف میں شامل کر لے۔جب حاجی کے دفعہ طواف کر چکے تو بہتر یہی ہے کہ مقام ابراھیم کے پیچھے کھڑے ہو کر ورنہ بیت اللہ کے کسی طرف کھڑے ہو کر دو رکعت نفل پڑھے نفل پڑھنے کے بعد صفا اور مروہ سے کی طرف جائے۔لے حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے۔جب قریش بیت اللہ کو از سرنو تعمیر کرنے لگے تو سامان عمارت کم ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس حصہ کو چھوڑ دیا۔منہ صفا اور مروہ مکہ معظمہ میں دو پہاڑیاں ہیں۔یہ وہی پہاڑیاں ہیں جن پر حضرت ہاجرہ نے اپنے بچے حضرت اسماعیل کے لئے پانی تلاش کرنے کی خاطر سات چکر لگائے تھے۔منہ