اسلام کی کتب (تیسری کتاب)

by Other Authors

Page 30 of 65

اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 30

کا قبول کرنا آسان کام نہیں مکہ کے لوگ جن کا گزارہ ہی بتوں کے معبدوں کی حفاظت اور مجاورت پر تھا وہ کب اس تعلیم کو برداشت کر سکتے تھے کہ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم دی جائے جو نہی ایمان لانے والوں کے رشتہ داروں کو معلوم ہوا کہ ایک ایسا مذہب مکہ میں جاری ہو ا ہے اور ان کے عزیز اس پر ایمان لے آئے ہیں۔انہوں نے ان کو تکلیف دینی شروع کی۔حضرت عثمان کو اُن کے چچا نے باندھ کر گھر میں قید کر دیا۔اور کہا کہ جبتک اپنے خیالات سے تو بہ نہ کرے۔میں نہیں چھوڑوں گا۔اور زبیر ایک اور مومن تھے۔جن کی عمر پندرہ سال کے قریب تھی۔ان کو ان کے رشتہ داروں نے قید کر لیا۔اور تکلیف دینے کے لئے جس جگہ اُن کو بند کیا ہو ا تھا۔اسمیں دھواں بھر دیتے تھے۔مگر وہ ایمان پر پختہ رہے۔اور اپنی بات کو نہ چھوڑا۔ایک اور نوجوان کی والدہ نے ایک نیا طریق نکالا۔اس نے کھانا کھانا چھوڑ دیا۔اور کہا کہ جب تک تو اپنے ابا کی طرح عبادت نہیں کرے گا۔اس وقت تک میں کھانا نہیں کھاؤں گی۔مگر اس نوجوان نے جواب دیا کہ میں دُنیا کے ہر معاملہ میں ماں باپ کی فرمانبرداری کروں گا۔مگر خدا تعالی کے معاملہ میں اُن کی نہیں مانوں گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا تعلق ماں باپ سے بھی زیادہ ہے۔غرض سوائے ابو بکر اور خدیجہ کے آپ پر ابتدائی زمانہ میں ایمان لانے والے سب نوجوان تھے ، جن کی عمریں ۱۵ سال سے لے کر ۲۵ سال کی تھیں۔پس [30]