اسلام کی کتب (تیسری کتاب)

by Other Authors

Page 29 of 65

اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 29

جھوٹ نہیں بول سکتے۔ان چاروں میں سے حضرت ابوبکر" کا ایمان لانا عجیب تر تھا۔جسوقت آپ کو وحی ہوئی کہ آپ منبوت کا دعوی کریں۔اسوقت حضرت ابو بکر مکہ کے ایک رئیس کے گھر میں بیٹھے تھے۔اس رئیس کی لونڈی آئی اور اس نے آ کر بیان کیا کہ خدیجہ کو معلوم نہیں کہ کیا ہو گیا ہے؟ کہ وہ کہتی ہے کہ میرے خاوند اس طرح نبی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ “ تھے۔لوگ تو اس خبر پر ہنسنے لگے۔اور اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو پاگل قرار دینے لگے۔مگر حضرت ابو بکر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حالات سے بہت گہری واقفیت رکھتے تھے۔اسی وقت اٹھ کر رسول کریم کے دروازہ پر آئے اور پوچھا کہ کیا آپ نے کوئی دعویٰ کیا ہے۔آپ نے بتایا ہاں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے دُنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث کیا ہے اور شرک مٹانے کا حکم دیا ہے۔حضرت ابوبکر نے بغیر اس کے کہ کوئی اور سوال کرتے جواب دیا کہ مجھے اپنے باپ اور ماں کی قسم ! کہ تو نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔اور میں نہیں مان سکتا کہ تو خدا پر جھوٹ بولیگا۔پس میں ایمان لاتا ہوں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اور یہ کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے رسُول ہیں۔اس کے بعد ابو بکر نے ایسے نوجوانوں کو جمع کر کے جو ان کی نیکی اور تقویٰ کے قائل تھے سمجھانا شروع کیا۔اور سات آدمی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لائے یہ سب نوجوان تھے۔جن کی عمر ۱۲ سال سے لیکر ۲۵ سال تک تھی۔[29]