اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 4
سے پہلے سحری کھا کر نیت لے کے ساتھ روزہ رکھا جاتا ہے۔اور رات تک روزہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔جب سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کی دُعا اللهُم لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَتِ الْعُرُوقُ وَ ثَبَتَ الأَجْرُان شَاءَ اللهُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلْكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْنِي أَن تَغْفِرَ ان دانوبی پڑھ کر روز و افطار کرے۔کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا سنت ہے۔اگر کھجور نہ ملے تو پانی کیساتھ روز و افطار کرلے۔جو شخص روزہ رکھے اُس پر لازم ہے کہ وہ ذکر الہی میں مشغول رہے۔اور جھوٹ۔غیبت۔حسد۔کینہ۔لڑائی جھگڑا۔اور تمام اُن چیزوں سے جو منع ہیں بچے۔جو شخص روزہ رکھنے کے باوجود ان چیزوں کو نہیں چھوڑتا۔اُس کا روزہ حقیقی روزہ نہیں۔وہ صرف فضول بھوکا اور پیاسا مرتا ہے۔اُس کے روزہ کی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں اور ایسا شخص کسی اجر یا ثواب کا مستحق نہیں بلکہ گنہگار ہے۔لے روزہ رکھنے کی دُعا۔وَبِصَومِ غرِنَوَيْتُ مِنْ شَهرِ رمضان ترجمہ۔میں نے رمضان کے روزے کی نیت کی۔ترجمہ: اے میرے اللہ میں نے تیری خاطر روزہ رکھا۔اور تیرے ہی رزق پر افطار کیا۔پیاس جاتی رہی اور رگیں (جو پہلے خشک تھیں ) تر ہو گئیں۔اور اگر تو چاہیگا۔تو اجر بھی مل جائیگا اے میرے اللہ میں تجھ سے تیری رحمت کا واسطہ دے کر جو ہر چیز پر وسیع ہے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ بخش دے۔منہ [4]