اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 19
تھا۔تا کہ ملزم بھوک و پیاس سے مرجائے۔اور اس کے بعد صلیب سے اُتار کر مصلوب کی ہڈیاں توڑی جاتی تھیں، تا کہ پوری طرح سے اس کی جان نکل جائے ) جب آپ کو صلیب پر لٹکایا گیا۔تو کم بخت یہودی آپ سے مخول کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ یہ یہودیوں کا بادشاہ ہے۔اور کہتے تھے کہ اگر تو سچا ہے۔تو صلیب پر سے اتر آ۔ہم تجھ پر ایمان لے آئینگے۔لیکن جب حضرت مسیح علیہ السلام کو لٹکایا گیا تو اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑ کی ( کیونکہ اُس کی غیرت اپنے پیاروں کے لئے بھڑکتی ہے ) اور فور اسخت آندھی چلی۔جس سے تمام یہودی بھاگ گئے۔اور حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر سے اُتار لیا گیا۔اُس وقت آپ بیہوش تھے۔لیکن آپ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں۔( دو چور بھی آپ کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے۔اُن کی ہڈیاں توڑی گئیں۔لیکن حضرت مسیح کی ہڈیاں توڑنے کے وقت اُنہوں نے کہا کہ یہ تو مر چکا ہے۔اس کی ہڈیاں توڑنے کی کیا ضرورت ہے۔اس لئے آپ کی ہڈیاں نہیں توڑی گئیں ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو آپ کا بچانا منظور تھا۔وہاں سے آپ کے شاگرد آپ کو اُٹھا کر لے گئے۔اور ایک قبر میں جو بہت وسیع تھی۔اور زمین کے اندرکھودی ہوئی تھی۔اور اندر سے نہایت صاف تھی۔اور ایک مکان کیطرح تھی۔( کیونکہ اُس زمانہ میں قبریں ایسی ہی ہوا کرتی تھیں) آپ کو جا کر رکھ دیا۔اور آپ کا علاج شروع کر دیا۔آپ کے زخموں کے لئے جو آپ کے ہاتھ پاؤں پر صلیب پر لٹکائے جانے کی وجہ سے ہو گئے [19]