اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 5
روزہ توڑنے کی سزا روزہ رکھنا اور پھر اس کو بغیر کسی عذر صیح شرعی کے توڑ دینا سخت گناہ ہے۔جو شخص پہلے روزہ رکھتے۔اور پھر جان بوجھ کر روزہ توڑ دے۔وہ سخت گناہ گار ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر سخت ناراض ہوتا ہے۔جو شخص محمد اروزہ توڑ دے۔اُسے چاہیے کہ وہ اُس کا کفارہ ادا کرے۔کفارہ یہ ہے کہ وہ ایک غلام آزاد کرے، اور اگر غلام آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو۔یا غلام نہ ملے تو ساٹھ دن کے متواتر روزے رکھے۔اگر ان میں سے ایک روزہ بھی چھوٹ جائے گا تو پھر دوبارہ ساٹھ متواتر روزے رکھنے پڑیں گے۔اور اگر روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔نواقض روزہ روزہ عمد ا کھانے پینے اور جماع کرنے اور حیض و نفاس کے آنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔بھول کر کھا پی لینے کے کے آنے اور احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔روزہ میں مسواک کرنا۔نہانا۔بدن کو تیل لگانا۔تر کپڑا اوپر لینا۔سُرمہ لگانا۔آئینہ دیکھنا۔خوشبوسونگھنا یا گانا جائز ہے۔ان سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔[5]