اسلام کی کتب (دوسری کتاب) — Page 51
ย آپ اپنے اخلاص اور تقویٰ کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظر میں اس حد تک محبوب تھے کہ حضور علیہ السلام نے ایک شعر میں آپ کی تعریف میں فرمایا چہ خوش بودے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے نہیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے لے آپ کا فیض عام تھا۔ہزار ہا ہندو مسلم، عیسائی اب تک آپ سے کسی نہ ہزار ہا ، کسی رنگ میں فیض یافتہ ہونے کے سبب ممنون ہیں۔اور آپ کی یاد میں چشم پر آب ہو جاتے ہیں۔بہت سے طلباء کو آپ نے اپنے خرچ سے تعلیم دلائی۔صد ہا کو خود علوم پڑھائے۔کئی لوگوں کو حج کرائے بہت سے محتاجوں کے قرض ادا کئے۔سب کو نیک نصیحت کرتے رہتے۔بیماروں کو ادویہ مفت دیتے تھے۔علاج کے واسطے کبھی فیس نہ مانگتے تھے۔جو کچھ کوئی دیتا تھا قبول کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جنت میں بلند مقامات اور بڑے بڑے درجات عطا کرے۔آمین۔آپ نے ۵ سال ۹ ماه ۱۸ دن خلافت کی۔لے کیا ہی اچھا ہو اگر جماعت میں سے ہر ایک ہی نور دین ہو۔نور دین جیسا ہی ہو۔اگر ہر ایک دل یقین کے نور سے پر ہو۔[51]