اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 56

" رہی ہے۔" حضرت مرزا مسرور احمد صاحب نے مختلف مسلمان ملکوں میں انتہا پسندوں کی جانب سے پر تشد در عمل کی پر زور مذمت کی۔آپ نے فرمایا سفیروں اور دوسرےسفارتی عملہ سمیت بیگناہ لوگوں کو قتل کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔آپ نے فرمایا کہ جائدادوں اور عمارات کو نظر آتش کرنا سراسر غلط ہے اور اس سے صرف ان لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے جو اسلام کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔بعض حقوق کو بعض پر ترجیح دینے کے بارہ میں اظہار خیال کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا : ایسا نہ ہو کہ آزادی اظہار کے نام پر ساری دُنیا کا امن تباہ ہو جائے۔“ حضور انور نے عالمی رہنماؤں اور عوام سے بھی کہا کہ ان کو سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ ایسی فلمیں اور خاکے بنانے والے لوگوں کے حق کی ہر قیمت پر حمایت کر کے، جو دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے اور معصوم لوگوں کے لیے باعث تکلیف ہوتے ہیں، دُنیا میں نفرتوں کو ہوا دینے میں کوئی کردار تو نہیں ادا کر رہے۔ان اشتعال انگیزیوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے حضور انور نے ساری دُنیا کے مسلمانوں کو ایک اجتماعی اور مؤثر جواب دینے کی تلقین فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ مسلمان حکومتوں اور مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مل کر اسلام اور قرآن کریم کی پرامن تعلیمات کو دُنیا کے سامنے اُجا گر کریں۔حضور انور نے انہیں ہمیشہ ہر سطح پر ، اسلام اور آنحضرت ﷺ کے پاکیزہ اخلاق کے دفاع کیلئے متفقہ اور پُر امن موقف اختیار کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور انور نے فرمایا۔پس شدت پسندی اس کا جواب نہیں ہے۔اس کا جواب وہی ہے جو میں بتا آیا ہوں کہ اپنے اعمال کی اصلاح اور اس نبی ﷺ پر درود و سلام جو انسانیت کا نجات دہندہ ہے اور دُنیاوی کوششوں کیلئے مسلمان ممالک کا ایک ہونا، مغربی ملکوں میں رہنے والے مسلمانوں کو اپنے ووٹ کی طاقت منوانا۔“ 56