اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 19

وہ تصویریں تھیں اور اپنا نام ظاہر نہیں کیا کہ مسلمانوں کا رد عمل ہوگا۔تو بہر حال یہ کتاب ہے جو وجہ بن رہی ہے اس اخبار میں بھی کارٹون ہی وجہ بنی تھی تو اس بارہ میں بھی ان کو مستقل کوشش کرتے رہنا چاہئے اور دنیا میں ہر جگہ اگر اس کو پڑھ کر جہاں جہاں بھی اعتراض کی باتیں ہوں وہ پیش کرنی چاہئیں اور جواب دینے چاہئیں۔لیکن وہاں ڈنمارک میں یہ بھی تصور ہے کہتے ہیں بعض مسلمانوں کے ذریعہ غلط کارٹون جو ہم نے شائع ہی نہیں کئے وہ دکھا کے مسلمان دنیا کو ابھارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔پتہ نہیں یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے لیکن ہماری اس فوری توجہ سے ان میں احساس بہر حال پیدا ہوا ہے۔یہ اسی وقت شروع ہو گیا تھا ان لوگوں کو تو آج پتہ لگ رہا ہے۔جبکہ یہ تین مہینے پہلے کی بات ہے۔تو جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ہر ملک میں آنحضرت ﷺ کی سیرت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر جو اسلام کے بارہ میں جنگی جنونی ہونے کا ایک تصور ہے اس کو دلائل کے ساتھ رد کرنا ہمارا فرض ہے۔پہلے بھی میں نے کہا تھا کہ اخباروں میں بھی کثرت سے لکھیں۔اخباروں کو، لکھنے والوں کو سیرت پر کتابیں بھی بھیجی جاسکتی ہیں۔احمدی نو جوانوں کو صحافت میں جانا چاہئے پھر یہ بھی ایک تجویز ہے آئندہ کے لئے ، یہ بھی جماعت کو پلان (Plan) کرنا چاہئے کہ نوجوان جرنلزم (Journalism) میں زیادہ سے زیادہ جانے کی کوشش کریں جن کو اس طرف زیادہ دلچسپی ہوتا کہ اخباروں کے اندر بھی ان جگہوں پر بھی ، ان لوگوں کے ساتھ بھی ہمارا نفوذ رہے۔کیونکہ یہ حرکتیں وقتا فوقتا اٹھتی رہتی ہیں۔اگر میڈیا کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وسیع تعلق قائم ہوگا تو ان چیزوں کو روکا جا سکتا ہے، ان بیہودہ حرکات کو روکا جاسکتا ہے۔اگر پھر بھی اس کے بعد کوئی ڈھٹائی دکھاتا ہے تو پھر ایسے لوگ اس زمرہ میں آتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھی لعنت ڈالی ہے اور آخرت میں بھی۔19