اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 81 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 81

آپ کی زندگی کا ہر واقعہ آپ کو ایسا حقیقت پسند اور پُر جوش انسان ثابت کرتا ہے جو اپنے مسلمہ عقائد اور نظریات تک آہستہ آہستہ تکالیف برداشت کرتے ہوئے پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔“ (ایضا صفحہ 127) پھر مزید لکھتا ہے کہ: یہ کہنا کہ عرب کو انقلاب کی ضرورت تھی یا بالفاظ دیگر یہ کہنا کہ نئے پیغمبر کے ظہور کا وقت آ گیا تھا۔اگر ایسا ہی تھا تو پھر حضرت محمد ہی وہ پیغمبر کیوں نہ ہوں؟ اس موضوع پر موجودہ زمانے کے مصنف سپر نگر نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی آمد سے سالہا سال قبل ایک پیغمبر کے ظہور کی توقع بھی تھی اور پیشگوئی بھی تھی۔66 پھر آگے یہی Bosworth ہی بیان کرتا ہے کہ: ( ایضاً صفحہ 133) مجموعی طور پر مجھے یہ حیرانی نہیں کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) مختلف حالات میں کتنے بدل گئے تھے۔بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ آپ کی شخصیت میں کتنی کم تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔صحرائی گلہ بانی کے ایام میں شامی تاجر کے طور پر، غار حرا کی خلوت گزینی کے ایام میں ، اقلیتی جماعت کے مصلح کی حیثیت سے، مدینہ میں جلا وطنی کے ایام میں ، ایک مسلمہ فاتح کی حیثیت سے، یونانی بادشاہوں اور ایرانی ہر قلوں کے ہم مرتبہ ہونے کی حالت میں ہم آپ کی شخصیت میں ایک غیر متزلزل استقلال کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔“ کہتا ہے کہ : " مجھے نہیں لگتا کہ اگر کسی اور آدمی کے خارجی حالات اس قدر زیادہ بدل جاتے تو کبھی اُس کی ذات میں اس قدر کم تبدیلی رونما ہوتی۔حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے خارجی حالات تو تبدیل ہوتے رہے مگر ان تمام حالتوں میں مجھے اُن کی ذات کا جو ہر ایک جیسا ہی دکھائی دیتا ہے۔“ (ایضاً صفحہ 133 ) واشنگٹن ارونگ ( Washington Irving) اپنی کتاب Life of Mahomet میں لکھتا ہے کہ: آپ کی جنگی فتوحات نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر نہ تو تکبر پیدا کیا، نہ کوئی غرور اور نہ کسی قسم 81