اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 57
حضور انور نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ گذشتہ چند سالوں سے اسلام پر ایسے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بعض مسلمانوں کے نامناسب رویے بھی قابل مذمت ہیں۔آپ نے مزید فرمایا کہ یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اکثر اوقات دوسروں نے فساد کا محرک بننے میں پہل کی ہے۔آپ نے اسلام کا صحیح چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جماعت احمدیہ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ہم احمدی مسلمان دنیا کی خدمت کے لئے کوئی بھی دقیقہ نہیں چھوڑتے۔امریکہ میں خون کی ضرورت پڑی گذشتہ سال ہم احمدیوں نے بارہ ہزار بوتلیں جمع کر کے دیں اس سال پھر وہ جمع کر رہے ہیں۔آج کل یہ ڈرائیو (Drive) چل رہی تھی۔اُن کو میں نے کہا کہ ہم احمدی مسلمان تو زندگی دینے کیلئے اپنا خون دے رہے ہیں اور تم لوگ اپنی ان حرکتوں سے اور ان حرکت کرنے والوں کی ہاں میں ہاں ملا کر ہمارے دل خون کر رہے ہو۔“ حضرت خلیفہ اسیح نے آخر پر حضور اکرم نے کی ہتک اور توہین کی تمام تر کوششوں کی ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: امام الزماں کی یہ بات یادرکھیں کہ ہر فتح آسمان سے آتی ہے اور آسمان نے یہ فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ جس رسول کی تم ہتک کرنے کی کوشش کر رہے ہو اس نے دنیا پر غالب آتا ہے۔“ خطبہ جمعہ کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضور انور نے پریس کے نمائندوں کو بتایا کہ مسلمان رسول اکرم ﷺ سے بے مثال محبت کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کی محبوب ہستی کا مذاق اُڑایا جائے تو ہر کسی کو تکلیف پہنچتی ہے اسی طرح حضرت رسول پاک ﷺ پر ہونے والا ہر حملہ تمام مسلمانوں کو زخمی کرتا ہے۔مذکورہ فلم کے جاری ہونے کے نتیجہ میں ہونے والے ایک پر تشد داحتجاج کے بارہ میں سوال کے جواب میں حضور انور نے فرمایا کہ ایسے احتجاج نامناسب تھے اور سفیروں اور سفارتی عملہ سمیت کسی بھی 57