اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 51
سلسلہ کی صورت میں کیا ہے"۔(ملفوظات، جلد ۳ صفحه ۸-۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یہ فقرہ دیکھیں کہ اس طرح جماعت احمدیہ پر بہت بڑی ذمہ داری پڑتی ہے جو اپنے آپ کو حضرت مسیح موعود کی طرف منسوب کرتے ہیں۔پس جہاں ایسے وقت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی مچا ہوا ہے یقینا اللہ تعالیٰ کے فرشتے آپ پر درود بھیجتے ہوں گے بھیج رہے ہوں گے بھیج رہے ہیں۔ہمارا بھی کام ہے جنہوں نے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق اور امام الزمان کے سلسلہ اور اس کی جماعت سے منسلک کیا ہوا ہے کہ اپنی دعاؤں کو درود میں ڈھال دیں اور فضا میں اتنا در و دصدق دل کے ساتھ بکھیریں کہ فضا کا ہر ذرہ درود سے مہک اٹھے اور ہماری تمام دعا ئیں اس درود کے وسیلہ سے خدا تعالیٰ کے دربار میں پہنچ کر قبولیت کا درجہ پانے والی ہوں۔یہ ہے اس پیار اور محبت کا اظہار جو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہونا چاہئے اور آپ کی آل سے ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو بھی عقل دے، سمجھ دے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرستادہ کو پہنچا نہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس روحانی فرزند کی جماعت میں شامل ہوں جو صلح، امن اور محبت کی فضا کو دوبارہ دنیا میں پیدا کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو بلند کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کے باوجود آج پھر دیکھ لیں چودہ سو سال کے بعد بھی اسی مہینے میں جب محرم کا مہینہ ہی چل رہا ہے اور اسی سرزمین میں پھر مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے مگرسبق کبھی بھی نہیں سیکھا اور ابھی تک خون بہاتے چلے جارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے اور اس عمل سے باز آئیں اور اپنے دل میں خدا کا خوف پیدا کریں اور اسلام کی سچی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں۔یہ سب کچھ جو یہ کر رہے ہیں زمانہ کے امام کو نہ پہچاننے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انکار کی وجہ سے ہو رہا ہے۔پس آج ہر احمدی کی ذمہ داری ہے، بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ جس نے اس زمانہ کے امام کو 51